Uncategorized

اہل بیت علیھم السلام در قرآن

اہل البیتؑ سے مراد پنجتن پاکؑ

اہل البیتؑ سے مراد پنجتن پاکؑ

وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ اَطِعۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا ﴿احزاب: ۳۳﴾

 اور اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے آپ کو نمایاں کرتی نہ پھرو نیز نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیا کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اللہ کا ارادہ بس یہی ہے ہر طرح کی ناپاکی کو اہل بیت ! آپ سے دور رکھے اور آپ کو ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

عورت کی عظمت ووقار عفت میں پوشیدہ

۱۔ وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ: اپنے گھروں میں جم کر بیٹھی رہو۔ جناب مودودی کا ترجمہ ہے: اپنے گھروں میں ٹک کر رہو۔ یہ حکم تمام عورتوں کے لیے ہے لیکن خطاب رسولؐ کی ازواج سے ہے چونکہ نفاذ اسلام کی ابتدا اس کے داعی کے گھر سے ہونی چاہیے۔

عورت کا وقار، عزت اور عظمت اس کی عفت میں پوشیدہ ہے اور اسے تحفظ گھر ہی میں ملتا ہے۔ چنانچہ عورتوں کا بیرون خانہ عفت کے منافی سرگرمیوں میں شریک ہونے کا نتیجہ ایک المیہ ہے۔

۲۔ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ: اس آیت کریمہ میں دو لفظوں کے معنی قابل توجہ ہیں: تبرج اور جاھلیت اولیٰ۔

تبرج برج ظاہر اور نمایاں ہونے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے حسن وجمال، چال ڈھال اور زیب و زینت نمایاں کرے کہ غیر مردوں کی نگاہ پڑ سکے۔

مولانا مودودی اس جگہ لکھتے ہیں:

عورت کی بیرون خانہ سرگرمیوں کے جواز میں جو بڑی سی بڑی دلیل پیش کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ نے جنگ جمل میں حصہ لیا تھا لیکن یہ استدلال جو پیش کرتے ہیں انہیں شاید معلوم نہیں ہے کہ خود حضرت عائشہؓ کا اپنا خیال اس باب میں کیا تھا؟ عبد اللّٰہ بن احمد بن حنبل نے الزھدین الزھدین، ابن المنذر، ابن ابی شیبہ اور ابن سعد نے اپنی کتابوں میں مسروق کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہؓ جب تلاوت قرآن کرتے ہوئے اس آیت وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ پر پہنچتی تھیں تو بے اختیار رو پڑتی تھیں یہاں تک ان کا دوپٹہ بھیک جاتا تھا کیونکہ اس پر انہیں اپنی غلطی یاد آتی تھی جو ان سے جنگ جمل میں ہوئی۔

چنانچہ حضرت عائشہؓ نے حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کرنے کے لیے مکہ میں ام المومنین ام سلمہؓ سے اس جنگ میں ساتھ دینے کے لیے کہا تو ام سلمہؓ نے کہا:

قد جمع القرآن ذیلک فلا تندحیہ۔ ( بلاغات النسآ ص۱۵)

قرآن نے تمہارا دامن سمیٹا ہے تو اسے مت پھیلاؤ۔

۲۔ الۡجَاہِلِیَّۃِ الۡاُوۡلٰی: اسلام آنے سے پہلے زمان جاہلیت کی عورتوں کی طرح نہ نکلو چونکہ جاہلیت میں بے پردگی کے ساتھ بے عفتی عام تھی۔ جاہلیت سے مراد وہ جاہلیت ہے جو اسلام آنے سے پہلے تھی اور اسلام آنے کے بعد جاہلیت پر عمل کرنے والے جاہلیت ثانیہ کے مرتکب ہوں گے۔ چنانچہ حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے:

ستکون جاھلیۃ اخری۔۔۔۔ (بحار الانوار:۲۲: ۱۸۹)

دوسری جاہلیت آنے والی ہے۔

آج ہر شخص کو نظر آتا ہے کہ دوسری جاہلیت شروع ہو چکی ہے بلکہ اپنی جاہلیت کو پیش کرنے کے لیے جو وسائل و ذرائع آج کل کی دوسری جاہلیت کے پاس ہیں وہ جاہلیت اولٰی کے پاس نہ تھے۔

۳۔ وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ: اگرچہ نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کرنے کا حکم عام مسلمانوں کے لیے بھی ہے تاہم ازواج رسول کے لیے ان کے مراتب اور رسالت سے قربت کی وجہ سے زیادہ تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔

اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا:

اس آیہ شریفہ میں سب سے پہلے ہم اس بات کی وضاحت کریں گے کہ یہاں اہل بیت علیہم السلام سے مراد کون ہیں:

لفظ اہل سے مراد

اَہۡلَ: پہلے ہم قرآنی استعمالات کا ذکر کرتے ہیں کہ لفظ اہل کن معنوں میں استعمال ہوا ہے:

I۔ زوجہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قصے میں فرمایا: وَ سَارَ بِاَہۡلِہٖۤ۔۔۔۔ (۲۸ قصص: ۲۹) یہاں اہل سے مراد زوجۂ موسیٰ علیہ السلام ہے۔ قَالَتۡ مَا جَزَآءُ مَنۡ اَرَادَ بِاَہۡلِکَ سُوۡٓءًا۔۔۔۔ (۱۲یوسف:۲۵) یہاں اہل سے مراد عزیز مصر کی زوجہ ہے۔

ii۔ خاندان: جس میں اولاد و ازواج دونوں شامل ہیں۔ چنانچہ فرمایا: اِنَّا مُنَجُّوۡکَ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا امۡرَاَتَکَ کَانَتۡ مِنَ الۡغٰبِرِیۡنَ۔ (۲۹العنکبوت:۳۳)

iii۔ قریبی رشتہ دار اور قبیلہ کے افراد: اس معنی میں فرمایا: وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ۔۔۔۔ (۴ النساء: ۳۵) وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا (۱۲ یوسف: ۲۶) پہلی آیت میں اہل سے مراد زن و شوہر کے رشتہ دار ہیں۔ دوسری آیت میں عزیز مصر کے رشتہ دار ہیں۔ کہتے ہیں جس نے یوسف علیہ السلام کے حق میں گواہی دی تھی وہ عزیز مصر کا بھانجا یا چچازاد بھائی تھا۔

iv۔ اولاد: جیسا کہ ارشاد ہے: فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ۔۔۔۔ (۲۱ انبیاء: ۸۴) یہاں اہل سے مراد اولاد ہے۔ چنانچہ ایوب علیہ السلام کو دوگنی اولاد دی گئی۔

v۔ صاحب عمل: کسی عمل کے انجام دینے والے کو بھی اہل کہتے ہیں۔ جیسے اہل الکتاب، اہل علم : وَ لَا یَحِیۡقُ الۡمَکۡرُ السَّیِّیٴُ اِلَّا بِاَہۡلِہٖ۔۔۔۔ (۳۵ فاطر: ۴۳)

بیت: عربی محاورے میں انسان جس چیز کی پناہ میں ہوتا ہے اسے بیت کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے حسب و نسب کو بیوت کہتے ہیں اور بیوتات العرب کہ کر انساب مراد لیتے ہیں۔ ( مجمع البیان ذیل آیہ)

لسان العرب میں آیا ہے:

بیت العرب شرفھا۔

بیت العرب سے شرف العرب مراد لیتے ہیں۔

آگے لکھتے ہیں:

البیت من بیوتات العرب الذی یضم شرف القبیلۃ کآل حصن الفزاریین ۔

عرب بیوتات کا محاورہ قبائلی شرافت کے بیان کے لیے ہوتا ہے۔

ان استعمالات سے یہ بات سامنے آگئی کہ لفظ اَہۡلَ کے مطلق استعمال سے معنی و مطلب کا تعین نہیں ہوتا۔ جب یہ لفظ بیت کی طرف اضافہ ہو گا اہل البیت تو گھر کے اندر رہنے والے سب افراد شامل ہوں گے خواہ وہ اس گھر کے نوکر ہی کیوں نہ ہو۔ لہٰذا لفظ اہل کے دائرہ استعمال کی وسعت کے پیش نظر ہر استعمال کے ساتھ ایک قرینہ ہوتا ہے جس سے اس کے اطلاق کی تقیید ہو جاتی ہے۔

یہ طریقہ درست نہیں ہے کہ معنی کے تعین کے لیے ان استعمالات میں سے ایک استعمال کو پیش کیا جائے۔ مثلاً یہ کہا جائے کہ قرآن میں ایک دو جگہ اہل سے مراد زوجہ لی گئی ہے لہٰذا یہاں بھی زوجات ہی مراد ہیں، جیسا کہ بعض اہل قلم ایسا کرتے ہیں۔ اس طرز استدلال کا لازمہ یہ ہو گا کہ اگر ایک دو جگہ اہل کا لفظ زوجہ کے لیے استعمال ہوا ہے، ہر جگہ اس لفظ سے زوجہ ہی مراد ہو، اس کا کوئی قائل نہیں ہے۔

اہل البیت کون؟

اَہۡلَ الۡبَیۡتِ کون ہیں؟ قرآن میں ایک تعبیر مختلف معانی میں استعمال ہوتی ہے تو ان معانی میں سے ایک معنی کے تعیّن کے لیے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کریں گے جن کے قلب پر قرآن نازل ہوا ہے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کسی آیت کی کوئی تشریح نہ آئی ہو تو ہم سیاق و سباق و دیگر علامات کی طرف رجوع کریں گے۔

واضح رہے قرآن کی تفسیر و تشریح کے لیے سیاق و سباق پر سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقدم ہے چونکہ سیاق و سباق سے مطلب ظاہراً اور سنت رسولؐ سے صراحتاً سمجھا جاتا ہے۔ فتقدم السنۃ علی السیاق تقدم النص علی الظہور۔

نیز اگر قرآن، سنت نبوی کے بغیر سمجھنے کی کوشش کی جائے تو بقول بعضے قرآن اس کشتی کی مانند ہو کر رہ جائے گا جس کا ناخدا نہ ہو۔

ہم نے بہت سے مقتدر مفسرین کو دیکھا ہے کہ وہ ایک ضعیف ترین روایت کی وجہ سے قرآن کی صریح نص کے خلاف جاتے ہیں۔ ایک مثال پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں: سورۂ انعام کی ان آیات کو پڑھیے:

وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءُوۡکَ یُجَادِلُوۡنَکَ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیۡرُ الۡاَوَّلِیۡنَ وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡـَٔوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ (۶ انعام:۲۵۔ ۲۶)

اور اگر وہ تمام نشانیاں دیکھ لیں پھر بھی ان پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ یہ (کافر) آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں، کفار کہتے ہیں: یہ تو بس قصہ ہائے پارینہ ہیں۔ اور یہ (لوگوں کو) اس سے روکتے ہیں اور (خود بھی) ان سے دور رہتے ہیں اور وہ صرف اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں مگر اس کا شعور نہیں رکھتے۔

ان آیات میں وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ میں وَ ہُمۡ کی ضمیر صریحاً ان مشرکین کی طرف ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جھگڑتے ہیں لیکن بعض مفسرین اس ضمیر کو اس شخصیت کی طرف لوٹاتے ہیں جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت کی ہے۔ یعنی قرآن کی اس صراحت کے خلاف بعض مفسر حضرات یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ وَ ہُمۡ سے مراد حضرت ابو طالب علیہ السلام ہیں جب کہ وَ ہُمۡ کی ضمیر اس چیز کی طرف جاتی ہے جو اس سے پہلے لفظاً یا حکماً مذکور ہو۔ اس سے پہلے مشرکین کا لفظ مذکور ہے۔ ان کی طرف ضمیر کا جانا نص صریح ہے۔ اس کے باوجود ایک مجہول راوی حبیب بن ابی ثابت اور دیگر صحیح روایات کے ساتھ متصادم روایت کی بنا پر قرآن کی اس صراحت کے خلاف جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ قرآن کی نص صریح کے خلاف کسی روایت کو قرآن کے ساتھ متصادم تصور کیا جائے گا اور اس روایت کو رد کیا جائے گا۔

اگر کوئی روایت نص کے نہیں، ظاہر قرآن کے خلاف ہے تو اس صورت میں اگر اس ظہور کے خلاف سنت ثابتہ موجود ہے تو ہم قرآن کے سیاق و سباق اور دیگر ظہور سے ہاتھ اٹھائیں گے لیکن روایت ضعیف ہونے کی صورت میں ہم قرآنی ظہور کے خلاف نہیں جائیں گے۔

آیت تطھیر میں موجود تین اہم باتیں

آیۂ تطہیر میں تیں باتیں ہمارے پیش نظر ہیں: ایک یہ کہ اَہۡلَ کے معانی میں سے ایک معنی کے تعین کے لیے سنت ثابتہ پر مشتمل دلیل کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ دوسری یہ کہ آیت میں سیاق و سباق اگر ہے تو اس بارے میں سنت ثابتہ کی طرف رجوع کرنا ہو گا کہ کیا سنت ثابتہ سیاق کے مطابق ہے یا نہیں۔ تیسری بات خود سیاق کے بارے میں بحث ہو گی۔

ہم اَہۡلَ الۡبَیۡتِ میں معنی مقصود کے تعین کے لیے حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ حدیث چونکہ مفسر قرآن ہے تو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث ملے گی کہ اہل البیت سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، علی علیہ السلام، فاطمہ سلام اللہ علیہا اور حسن و حسین علیہما السلام ہیں۔ اس حدیث کو اہل سنت نے چالیس طرق سے اور شیعہ نے کم سے کم تیس طرق سے روایت کیا ہے۔ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کا تو اس پر اجماع ہے۔ یہاں ہم چند ایک طرق کا ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

اہل البیتؑ کے بارے میں  حضرت   ام سلمہ  کی روایت

i۔ حضرت ام المومنین ام سلمہؓ فرماتی ہیں: یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی: اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی، فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کو بلایا اور ان پر کساء ڈال دی پھر فرمایا:

اللھم ھؤلاء اھل بیتی۔

اے اللہ! یہ ہیں میرے اہل بیت۔

حضرت ام سلمہؓ کی ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت ام سلمہؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں بھی اہل البیت میں سے نہیں ہوں؟ فرمایا:

انک علی خیرانک من ازواج النبی۔

تم خیر پر ہو تم ازواج نبی میں ہو۔

اس مضمون کی حدیث مختلف لفظوں میں درج ذیل نو شخصیات نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ہے:

الف۔ عطا بن یسار ۔ ملاحظہ ہو المستدرک ۔

ب۔ شہرب بن حوشب ۔ ملاحظہ ہو المعجم الکبیر، تفسیر طبری ذیل آیہ۔

ج۔ ابو سعید خدری ۔ دیکھیے تفسیر طبری، مشکل الآثار ۔

د۔ ابوھریرۃ۔ رجوع ہو: تفسیر طبری ۔

ھ۔ ابو لیلیٰ ملاحظہ ہو مسند احمد بن حنبل حدیث ۲۶۵۵۱۔

و۔ حکیم بن سعد ۔ ملاحظہ ہو المعجم الکبیر ۲۳: ۳۲۷

ز۔ عبد اللہ بن وھب ابن زمعہ ملاحظہ ہو تفسیر طبری ذیل آیہ۔

ک۔ عمرۃ الھمدانیۃ ۔ ملاحظہ ہو مشکل الآثار ۔

ل۔ والد عطیہ طفاوی ۔ ملاحظہ ہو مسند احمد بن حنبل ۶: ۳۰۴۔

ii۔ سعد بن ابی وقاص ۔ ان کی روایت ملاحظہ ہو سنن نسائی ۵: ۱۰۷۔ مستدرک ۲: ۱۱۷ حدیث نمبر۴۵۷۵

iii۔ حضرت ام المومنین عائشہؓ۔ ان کی روایت ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ذیل آیہ۔

iv۔ عمر بن ابی سلمہ ۔ ملاحظہ ہو سنن ترمذی ۔

v۔ ابو سعید خدری ۔ ان کی روایت میں نہایت صراحت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ھذہ الایۃ فی خمسۃ فیّ و وفی علی و حسن و حسین و فاطمہ۔

یہ آیت پنجتن کی شان میں ہے۔ یعنی میرے اور علی اور حسن و حسین و فاطمہ کی شان میں ہے۔

ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ذیل آیہ۔ تفسیر ابن ابی حاتم ذیل آیت۔

vi۔ عبد اللہ بن عباس ۔ ان کی روایت ملاحظہ ہو سنن نسائی ۵: ۱۱۲ حدیث ۸۴۰۹

vii۔ الامام حسن علیہ السلام ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا:

ہم وہ اہل بیت ہیں جن کی شان میں اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ۔۔۔۔ نازل ہوئی۔

ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ذیل آیہ۔ المعجم الکبیر طبرانی ۳: ۹۳۔

viii۔ امام حسین علیہ السلام۔ آپ ؑنے ایک شامی سے فرمایا:

کیا تو نے سورۂ احزاب میں اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ لِیُذۡہِبَ عَنۡکُمُ الرِّجۡسَ اَہۡلَ الۡبَیۡتِ وَ یُطَہِّرَکُمۡ تَطۡہِیۡرًا۔ پڑھی ہے؟ اس نے کہا: ہاں۔ کیا وہ آپ لوگ ہیں؟ فرمایا: ہاں۔

ix۔ وائلہ بن اسقع ۔ ملاحظہ ہو مصنف ابی شیبہ حدیث ۳۲۱۰۳۔ مسند احمد بن حنبل ۴: ۱۰۷

x۔ عبداللّٰہ بن جعفر ۔ ملاحظہ ہو المستدرک ۳: ۱۴۸

xi۔ حضرت براء بن عازب۔ المعجم الکبیر طبرانی ۲۳:۳۹۶۔ حدیث نمبر ۹۴۷۔ اس روایت میں آیا ہے: ھؤلاء عترتی و اھلی ۔

xii۔ ابوالحمرا بلال بن حارث مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ مسند ابی شیبہ صفحہ ۲۳۲ حدیث ۷۲۰۔۷۲۲

xiii۔ انس بن مالک۔ مسند احمد بن حنبل ۳: ۱۰۹

xiv۔ زینب بنت ام سلمہ۔ المعجم الکبیر طبرانی ۲۴: ۲۸۱۔ حدیث ۷۱۳

(تفسیر الکوثر) xv۔ معقل بن یسار۔ سنن ترمذی باب مناقب اہل بیت ۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button