بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.
علامہ الشیخ مقبول حسین علوی
Abstract
’’علی امیرالمؤمنین علیہ السلام وہ ذاتِ گرامی ہیں جنہیں جنگ خیبر کے موقع پر “حدیث رأیۃ” کے مطابق ایک ہی وقت میں محبوب خُدا و رسولؐ اور محبِ پروردگار و پیغمبر ہونے کی سند ملی۔اسی طرح غدید کے مقام پر رسول اللہؐ نے دُعا فرمائی “ پروردگارا! جو اِس سے محبت کرے تو بھی اُ سے محبوب رکھ اور جو اس سے دُشمنی رکھے تو بھی اُسے دشمن رکھ” اِس ذات گرامی کی محبت احادیث نبوی کے مطابق ایمان کی شرط ہے۔اس مقالے میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جس طرح آپؑ کی محبت ایمان کی شرط ہے اسی طرح آپؑ کی محبت کے بھی کچھ تقاضے ہیں ۔اگر وہ تقاضے پورے ہوں گے تو محبت کا دعویٰ سچا ہو گاورنہ دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی۔
مقالے میں امامؑ کے کلام نہج البلاغہ سے آپؑ کی پسند اور نا پسند کو بیان کیا گیا تاکہ محبت کے دعویدار کو آپؑ کی پسند و نا پسند کا علم ہو اور اس کی بھی وہی پسند و نا پسند ہو جو امامؑ کی ہے اور یُوں عمل سے تصدیق ِ محبت ہو جائے‘‘۔
مقدمہ
محبت ایک ایسا تعلق اور رشتہ ہے کہ انسان کیا حیوانات بھی چاہتے ہیں اُن سے محبت کی جائے اور فقط انسان ہی نہیں حیوان بھی دوسروں سے محبت کرتے ہیں۔ مثلاً ماں کی محبت انسان اور حیوان دونوں میں پائی جاتی ہیں۔ محبت کا متضاد بغض ہے یہ بھی انسان و حیوان دونوں میں پایا جاتا ہے۔ محبت ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں اور یہی وجوہات محبت کے معیار کو معیّن کرتی ہیں۔ مثلاً خونی رشتے محبت کا ایک سبب ہوتے ہیں، کسی سے کوئی ضرورت ہو تو اس سے محبت کا اظہار ہوتا ہے، مگر محبت کے دو معیار ایسے ہیں جو انسان کو حیوان سے الگ کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ کسی صفت میں کمال رکھنے والے سے محبت کرتا ہے اور دوسری یہ کہ باکمال کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ ضرورت مند کی ضرورتوں کا احساس کر کے اُس سے محبت کرتے ہوئے اس کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔
قرآ مجید میں تذکرہ محبت
قرآن مجید میں باکمال سے محبت اور باکمال کی ضرورت مندوں سے محبت ان دونوں محبتوں کا تذکرہ ہے۔ اللہ وہ کمال مطلق اپنی محبت چاہتا ہے بلکہ چاہتا ہے کہ سب سے زیادہ اسی سے محبت کی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّتَّخِذُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اَنۡدَادًا یُّحِبُّوۡنَہُمۡ کَحُبِّ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ۔(البقرہ:۱۶۵)
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا مدمقابل قرار دیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنی چاہیے اور ایمان والے تو سب سے زیادہ اللہ ہی سے محبت کرتے ہیں۔
باکمال افراد کی ضرورت مندوں سے سے محبت کو یوں بیان فرمایا: وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِـيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْـرًا( سورۃ الانسان آیت ۸)
اور اپنی خواہش کے باوجود مسکین،یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔
اللہ سبحانہ نے بارہا یہ بھی واضح فرمایا کہ میری محبت کے ساتھ یہ بھی مد نظر رکھو کہ مجھے کن چیزوں سے یا کن افراد سے محبت ہے۔ کبھی فرمایا:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ۔(البقرہ:۱۹۵) اللہ احسان کرنے والوں کو یقیناً پسند کرتا ہے۔کبھی ارشاد ہوتا ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ۔(البقرہ:۲۲۲)بے شک خدا توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
اور ساتھ ہی اپنی مبغوض چیزوں کو بھی واضح فرمایا اور کئی مقامات پر اُن کے بارے فرمایا:
وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ۔(مائدہ: ۶۴)
اور اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا۔یا فرمایا: اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ۔(الشوریٰ:۴۰)
اللہ یقیناً ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔
ان آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جس سے محبت کی جائے اُس کی محبوب چیزوں کو اپنانا بھی محبت کا حصّہ ہے اور اس کے قابل نفرت امور کو چھوڑنا بھی اُس کی محبت کا تقاضا ہے ۔
محبت علی علیہ السلام
امیر المؤمنین علیہ السلام سے محبت انسانی فطرت کا تقاضا ہے کیونکہ انسان کی فطرت سلامت ہو تو وہ باکمال افراد سے محبت کرتا ہے اور کائنات میں بعد از خدا و رسولﷺ علی علیہ السلام وہ ذاتِ گرامی ہیں جو متعدد کمالات کا مجموعہ ہیں اس لیے وہ مستحق محبت ہیں۔ ساتھ ہی آپ ؑ اللہ و رسولﷺ کے محبوب بھی ہیں اور مُحب بھی۔آپؑ کی محبت حقیقت میں اللہ و رسول ؐ کی محبت کا حصہ ہے۔
جنگِ خیبر کے موقعہ پر چند دِن قلعہ کے فتح نہ ہونے کے بعد ایک شام رسول اللہﷺ نے اعلان فرمایا جس فرمان کو ’’حدیث رایۃ‘‘ کہتے ہیں آپﷺ نے فرمایا: اَمَا وَاللہِ لَاُعْطِيَنَّ هٰذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا کَرَارًا غَیْرَ فَرَارٍ یُحِبُّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلُہٗ وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ يَفتَحُ اللهُ عَلٰى يَدَيْهِ۔
خدا کی قسم میں کل اس مرد کو علم دوں گا جو مسلسل حملہ کرنے والا ہوگا اور راہِ فرار اختیار کرنے والا نہ ہوگا۔ وہ خُدا و رسول ؐسے محبت رکھتا ہے اور خدا و رسولؐ بھی اُس سے محبت رکھتے ہیں۔(سیرت امیرالمومنین،علامہ مفتی جعفر حسین ؒ ص۲۷۲) (تاریخ خمیس ،ج۲،ص۵۳)
یہ محبوب ومُحب کا منصب اتنا عظیم تھا کہ بہت سے اصحابِ رسول خداﷺ فرماتے ہیں کہ ہمیں بھی خواہش پیدا ہو ئی کہ کاش یہ منصب ہمیں ملے۔
ایک مقام پر رسول اللہﷺ نے اللہ سبحانہ سے اللہ کے سب سے زیادہ محبوب کو آپؐ کی طرف بھیجنے کی خواہش کی۔ یہ فرمان “حدیث الطیر” کے عنوان سے مشہور ہے۔پیغمبر اکرمؐ کے پاس ایک بھونا ہوا پرندہ پیش کیا گیا آپؐ نے اللہ سبحانہ سے عرض کی:
اَللّٰهُمَّ ائْتِنِیْ بِاَحَبِّ خَلْقِکَ اِلَیْکَ؛ یَاکُلُ مَعِیَ هٰذَا الطَّیْرَ، فَجَاءَ عَلِیٌّ فَاَکَلَ مَعَهٗ ۔ (حدیث الطیر،السید علی المیلانی ،الصفحۃ ۲۰) (الگنجی الشافعی،کفایۃ الطالب ،ص۱۵۱)
اے اللہ اپنی محبوب ترین مخلوق کو میرے پاس بھیج جو میرے ساتھ یہ پرندہ کھائے۔علی علیہ السلام آئے اور آپ کے ساتھ پرندہ کھایا۔
علی علیہ السلام کی محبت جہاں اللہ و رسول ؐ کے محب ومحبوب ہونے کی وجہ سے لازم ہے اسی طرح محبت کے تقاضے یعنی اطاعت کو مدنظر رکھا جائے تو اللہ و رسولؐ کے جتنے مطیع علی علیہ السلام ہیں اتنا مطیع کوئی نہیں اس لئے مطیع خدا و رسول ؐ کے اعتبار سے بھی آپ ؑ سے محبت لازم ہے۔اللہ کی محبت کا یہ تقاضا یعنی اتباعِ مصطفی ؐ کا جیسا ثبوت امیرالمومنینؑ نے دیا ایسا کہیں اور نظر نہیں آتا۔ آپ ؑ فرماتے ہیں:
وَ لَقَدْ عَلِمَ الْمُسْتَحْفَظُوْنَ مِنْ اَصْحَابِ مُحَمَّدٍ -ﷺ اَنِّیْ لَمْ اَرُدَّ عَلَی اللهِ وَ لَا عَلٰی رَسُوْلِهٖ سَاعَةً قَطُّ.وَ لَقَدْ وَاسَیْتُهٗ بِنَفْسِیْ فِی الْمَوَاطِنِ الَّتِیْ تَنْكُصُ فِیْهَا الْاَبْطَالُ وَ تَتَاَخَّرُ فِیْهَا الْاَقْدَامُ، نَجْدَةً اَكْرَمَنِی اللهُ بِهَا۔ (نہج البلاغہ:خطبہ195)
پیغمبر ﷺ کے وہ اصحاب جو (احکام شریعت) کے امین ٹھہرائے گئے تھے اس بات سے اچھی طرح آگا ہ ہیں کہ میں نے کبھی ایک آن کیلئے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام سے سرتابی نہیں کی۔اور میں نے اس جوانمردی کے بل بوتے پر کہ جس سے اللہ نے مجھے سرفراز کیا ہے پیغمبر ﷺ کی دل و جان سے مدد ان موقعوں پر کی کہ جن موقعوں سے بہادر (جی چرا کر) بھاگ کھڑے ہوتے تھے اور قدم (آگے بڑھنے کی بجائے) پیچھے ہٹ جاتے تھے۔
ایک مقام پر امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں: وَ لَقَدْ كُنْتُ اَتَّبِعُهُ اتِّبَاعَ الْفَصِیْلِ اَثَرَ اُمِّهٖ۔(نہج البلاغہ ،خطبہ 198 )
میں آپؐ کی اتباع میں یُوں رہتا جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے اتباع کرتا ہوا چلتا ہے ۔
امیرالمومنین علیہ السلام سے محبت و دوستی اور بغض و دشمنی کو اللہ سے محبت و دُشمنی کا معیار قرار دینے کے لیے رسول اللہؐ نے غدیر میں فرمایا:
مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاهُ، اَللّٰهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ۔ (سیرت امیرالمومنین، علامہ مفتی جعفر حسین ص 336 )
جس کا میں مولا ہوں اُس کے علی مولا ہیں۔ اے اللہ جو انہیں دوست رکھے تو اُسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو اسے دشمن رکھ۔
علیؑ سے محبت حقیقت میں ایمان کا تقاضا ہے اور وہ مومن ہی علیؑ سے محبت رکھتا سکتا ہے۔ اسے امیرالمومنینؑ نے پیغمبر اکرمؐ کے فرمان کے ساتھ یُوں بیان فرمایا:
لَوْضَرَبْتُ خَیْشُوْمَ الْمُؤْمِنِ بِسَیْفِیْ هٰذَا عَلٰۤى اَنْ یُّبْغِضَنِیْ مَاۤ اَبْغَضَنِیْ، وَ لَوْ صَبَبْتُ الدُّنْیَا بِجَمَّاتِهَا عَلَى الْمُنَافِقِ عَلٰۤى اَنْ یُّحِبَّنِیْ مَاۤ اَحَبَّنِیْ، وَ ذٰلِكَ اَنَّهٗ قُضِیَ فَانْقَضٰى عَلٰى لِسَانِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّﷺاَنَّهٗ قَالَ: “یَا عَلِیُّ! لَا یُبْغِضُكَ مُؤْمِنٌ، وَ لَا یُحِبُّكَ مُنَافِقٌ”(نہج البلاغہ حکمت 45)
اگر میں مومن کی ناک پر تلواریں لگاؤں کہ وہ مجھے دشمن رکھے ،تو جب بھی وہ مجھ سے دشمنی نہ کرے گا ۔اور اگر تمام متاعِ دنیا کافر کے آگے ڈھیر کر دوں کہ وہ مجھے دوست رکھے ، تو بھی وہ مجھے دوست نہ رکھے گا ا۔س لیے کہ یہ وہ فیصلہ ہے جو پیغمبر امیﷺ کی زبان سے ہو گیا ہے کہ آپ نے فرمایا :اے علی علیہ السّلام! کوئی مومن تم سے دشمنی نہ رکھے گا اور کوئی منافق تم سے محبت نہ کرے گا۔
محبت کے تقاضے
۱۔ معرفت خدا
امام نے پورے نہج البلاغہ میں سب سے زیادہ زور جس چیز پر دیا ہے وہ اللہ سے تعلق پر ہے اور پہلے ہی خطبہ میں فرمایا:
اَوَّلُ الدِّیْنِ مَعْرِفَتُهٗ ۔(نہج البلاغہ خطبہ۱) معرفتِ خُدا دین کی بنیاد ہے
آپؑ نے مختلف ذرائع سے اللہ کی معرفت کرائی ہے اور مخلوق کی ہرشی کو معرفت کا ذریعہ قرار دیا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الدَّالِّ عَلٰی وُجُوْدِهٖ بِخَلْقِهٖ۔( نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۰)
تمام تعریفیں اُس اللہ کے لئے ہیں جو اپنی مخلوق کے ذریعہ اپنے وجود کا پتہ دیتا ہے ۔
پھر فرمایا: وَاِنَّمَا الْاَئِمَّةُ قُوَّامُ اللهِ عَلٰی خَلْقِهٖ، وَعُرَفَآئُهٗ عَلٰی عِبَادِهٖ، لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ عَرَفَهُمْ وَ عَرَفُوْهُ، وَلَا یَدْخُلُ النَّارَ اِلَّا مَنْ اَنْكَرَهُمْ وَ اَنْكَرُوْهُ۔( نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۰)
بلاشبہ آئمہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے حاکم ہیں اور اسکو بندوں سے پہچنوانے والے ہیں۔ جنت میں وہی جائے گا جسے انکی معرفت ہو اور وہ بھی اسے پہچانیں اور دوزخ میں وہی ڈالا جائے گا جو نہ انہیں پہچانے اور نہ وہ اسے پہچانیں۔
اللہ کی معرفت کے کے متعدد طریقے بتانے کے بعد امامؑ نے اللہ کی معرفت کامعیار بتاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
وَ اَبْیَنُ مِمَّا تَرَی الْعُیُوْنُ۔( نہج البلاغہ خطبہ 153 )
وہ ان چیزوں سے بھی زیادہ واضح و آشکار ہے کہ جنہیں آنکھیں دیکھتی ہیں۔
محبت علی کا تقاضا یہ ہے کہ اُس اللہ کو ایسے پہچانا جائے جیسے علی علیہ السلام چاہتے ہیں اور امامؑ سے ہی سیکھ کر اللہ کی عبادت ایسے کی جائے جیسے امامؑ کو پسند ہے۔
۲۔ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت
قرآن مجید نے یہ بھی واضح فرمایا کہ محبت کا فقط دعویٰ کافی نہیں بلکہ محبت کے کچھ عملی ثبوت ضروری ہیں۔ متعدد تفسیروں میں درج ہے کہ کچھ لوگ پیغمبر اکرمﷺ کے پاس آتے اور خدا سے محبت کے دعوے کرتے تو اُن کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ ۔(آل عمران:۳۱)
کہدیجئے: اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا ۔
اس آیت میں واضح فرمایا کہ محبت کا زبانی دعویٰ کافی نہیں ہے بلکہ عمل اُس دعوے کا گواہ ہونا چاہیے اور جس سے محبت ہو اُس کی اتباع کی جائے اور محبوب جس کی اتباع کا کہے اس کی بھی اتباع حقیقت میں محبوب ہی کی اتباع ہو گی۔
مولانا حافظ فرمان علی صاحب اِس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں:خداوندعالم نے اپنی محبت کی کسوٹی حضرت رسولؐ کی پیروی کو قرار دیا ہے پس محض دعویٰ محبّتِ خدا و رسولؐ کا کسی طرح کافی نہیں ہو سکتا جب تک اپنی کارگزاریوں سے ثابت نہ کر دے کہ وہ رسولؐ کا سچا پیرو ہے۔ اسی طرح شیعۂ ِ علیؑ ہونے کا دعویٰ اس وقت زیبا ہے جب اپنے افعال، اعمال، رفتار و گفتار سے یہ کر دکھائے کہ جو کام جناب امیر علیہ السلام جس وقت کرتے تھے اسی طرح وہ بھی کر گزرے ۔فقط نام کا شیعہ مومن ہونا کافی نہیں ہے۔تجمہ قرٓن مجید حافظ فرمان علی صاحب
علامہ شیخ محسن علی نجفی اس آیت کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:“محبت اگر سچی ہے تو محبوب کے حکم اور اشارے کا بے تابی سے انتظار کیا جاتا ہے، جب محبوب کا حکم سنتا ہے تو محب کیف و سرور کی حالت میں آتا ہے” (ترجمہ۔۔۔۔)
تفسیر نمونہ میں اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں:
یہ آیت نجران کے عیسائیوں اور زمانۂ رسولؐ کے مدّعیانِ محبت کے بارے میں ہی نہیں بلکہ یہ تمام ادوار کے لئے اسلام کی ایک منطق ہے۔ وہ لوگ جو رات دن عشقِ الٰہی یا پیشوایان اسلام، مجاہدینِ راہِ خدا اور صالحین سے محبت کا دم بھرتے ہیں لیکن عمل کی دنیا میں اُن سے کچھ بھی مشابہت نہیں رکھتے ان کی حیثیت سے جھوٹے دعویداروں سے زیادہ نہیں ہے۔ وہ لوگ جو سر تا پا گناہوں سے آلودہ ہیں اور اس کے باوجود اپنے دل کو خدا، رسولؐ، امیرالمومنینؑ اور عظیم پیشواؤں کے عشق سے لبریز سمجھتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایمان، عشق اور محبت کا تعلّق صرف دل سے ہے اور عمل سے ان چیزوں کا کوئی ربط نہیں، وہ اسلام کی منطق سے بالکل لاتعلّق ہیں۔ معانی الاخبار میں حضرت صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
“مَا اَحَبَ اللہَ مَنْ عَصَاہُ”
جو گناہ کرتا ہے وہ خدا کو دوست نہیں رکھتا
اس کے بعد آپؑ نے یہ مشہور اشعار پڑھے:
تَعْصِی الْاِلٰهَ وَاَنْتَ تُظْهِرُ حُبَّهُ
هَذَا لَعَمْرُکَ فِی الْفَعَالِ بَدِيْعُ
لَوْ كَانَ حُبُّكَ صَادِقَاً لَاَطَعْتَهُ
اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ يُحِبُّ مُطِيْعُ
یعنی تو خدا کی نافرمانی کرتا ہے اور اِس کےباوجود اس کی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ مجھے اپنی جان کی قسم یہ بڑی عجیب و غریب بات ہے۔ اگر تیری محبت سچی ہوتی تو تُو اس کی اطاعت کرتا۔ کیونکہ جو کسی سے محبت کرتا ہے وہ اس کے حکم کی پیروی کرتا ہے۔(تفسیر نمونہ،ج۲،ص۳۰۴)
یہاں تک یہ بات واضح ہوئی کہ اللہ کی محبت کا فقط دعویٰ کافی نہیں ہے بلکہ اُس کے عملی ثبوت کی ضرورت ہے۔
اطاعت امام علیہ السلام
جس طرح ایمان کا تقاضا علیؑ کی محبت ہے اور محبتِ علیؑ کے بعد ہی کوئی شخص مومن بنتا ہے تو مومنوں کو حکم ہے :یَا اَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ وَ اُولِی الۡاَمۡرِ مِنۡکُمۡ۔ ( نساء 59 )
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور تم میں سے جو صاحبان امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔
یعنی محبت کا تقاضا اطاعتِ خدا و رسول واولی الامر ہے۔ اطاعت بالذات اللہ کی ہوتی ہے اور رسولؐ واولی الامر کی اطاعت ومحبت اللہ کی نسبت سے ہوتی ہے۔ اس لیے امیر المومنینؑ رسول اللہ ؐکی محبت و دوستی کا معیار اللہ کی اطاعت کو قرار دیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:
اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِالْاَنْۢبِیَآءِ اَعْلَمُهُمْ بِمَا جَآؤُوْا بِهٖ. ثُمَّ تَلَا: ﴿اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾. ثُمَّ قَالَ: اِنَّ وَلِیَّ مُحَمَّدٍﷺمَنْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَ اِنْ بَعُدَتْ لُحْمَتُہٗ، وَ اِنَّ عَدُوَّ مُحَمَّدٍﷺمَنْ عَصَی اللّٰہَ وَ اِنْ قَرُبَتْ قَرَابَتُہٗ. (نہج البلاغہ کا خطبہ حکمت 96)
انبیاء سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے جو ان کی لائی ہوئی چیزوں کازیادہ علم رکھتے ہوں (پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی)’’ابراہیم سے زیادہ خصوصیت ان لوگوں کو تھی ،جو ان کے فرمانبردار تھے۔اور اب اس نبیؐ اور ایمان لانے والوں کو خصوصیت ہے‘‘۔ (پھرفرمایا)حضرت محمد مصطفی ﷺ کا دوست وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کرے اگرچہ ان سے کوئی قرابت نہ رکھتا ہو، اور ان کا دشمن وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرے، اگرچہ نزدیکی قرابت رکھتا ہو۔
اس مفہوم کو یُوں جمع کرکے پیش کیا جا سکتا ہے کہ قرآن کے مطابق محبتِ خدا اتباعِ رسول سے حاصل ہوتی ہے اور نہج البلاغہ کے اس فرمان کے مطابق پیغمبر اکرم ؐکی دوستی و محبت اطاعتِ خدا سے حاصل سے ہوتی ہے۔ علیؑ خدا و رسولؐ کی اطاعت کے نمونہ کامل ہیں۔ رسول اللہ ؐکی اطاعت کے بارے میں فرمایا: فَنَحْنُ مَرَّةً اَوْلٰی بِالْقَرَابَةِ، وَ تَارَةً اَوْلٰی بِالطَّاعَةِ۔ (نہج البلاغہ،خط 28)
تو ہمیں قرابت کی وجہ سے بھی دوسروں پر فوقیت حاصل ہے اور اطاعت کی وجہ سے بھی ہمار احق فائق ہے۔ خدا کی اطاعت کے بارے میں فرمایا: صَاحِبُكُمْ یُطِیْعُ اللهَ وَ اَنْتُمْ تَعْصُوْنَهٗ۔ ( نہج البلاغہ،خطبہ 95 )
تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو۔
اپنی اطاعت کی اہمیت بتاتے ہوئے فرماتے ہیں۔
فَاِنْ اَطَعْتُمُوْنِیْ فَاِنِّیْ حَامِلُكُمْ اِنْ شَآءَ اللهُ عَلٰی سَبِیْلِ الْجَنَّةِ۔(نہج البلاغہ خطبہ 154)
اگر تم میری اطاعت کرو گے تو میں ان شاء اللہ تمہیں جنت کی راہ پر لگا دوں گا۔
امامؑ اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں:
اَیُّهَا النَّاسُ! اِنِّیْ وَاللهِ! مَاۤ اَحُثُّكُمْ عَلٰی طَاعَةٍ اِلَّا وَ اَسْبِقُكُمْ اِلَیْهَا، وَ لَاۤ اَنْهَاكُمْ عَنْ مَّعْصِیَةٍ اِلَّا وَ اَتَنَاهٰی قَبْلَكُمْ عَنْهَا۔(نہج البلاغہ خطبہ 173)
اے لوگو! قسم بخدا! میں تمہیں کسی اطاعت پر آمادہ نہیں کرتا مگر یہ کہ تم سے پہلے اس کی طرف بڑھتا ہوں اور کسی گناہ سے تمہیں نہیں روکتا مگر یہ کہ تم سے پہلے خود اس سے باز رہتا ہوں۔
جو امام کی اطاعت نہیں کرتے نہج البلاغہ اُن کے بارے شکوؤں سے بھرا پڑا ہے۔ ایک مقام پر فرمایا:
مُنِیْتُ بِمَنْ لَّا یُطِیْعُ اِذَا اَمَرْتُ، وَ لَا یُجِیْبُ اِذَا دَعَوْتُ، لَاۤ اَبَا لَكُمْ! مَا تَنْتَظِرُوْنَ بِنَصْرِكُمْ رَبَّكُمْ؟ اَمَا دِیْنٌ یَجْمَعُكُمْ؟ وَ لَا حَمِیَّةَ تُحْمِشُكُمْ؟ اَقُوْمُ فِیْكُمْ مُسْتَصْرِخًا، وَ اُنَادِیْكُمْ مُتَغَوِّثًا، فَلَا تَسْمَعُوْنَ لِیْ قَوْلًا، وَ لَا تُطِیْعُوْنَ لِیْۤ اَمْرًا۔(نہج البلاغہ خطبہ 39)
میرا ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے جنہیں حکم دیتا ہوں تو مانتے نہیں، بلاتا ہوں تو آواز پر لبیک نہیں کہتے۔ تمہارا بُرا ہو! اب اپنے اللہ کی نصرت کرنے میں تمہیں کس چیز کا انتظار ہے؟ کیا دین تمہیں ایک جگہ اکھٹا نہیں کرتا اور غیرت و حمیت تمہیں جوش میں نہیں لاتی؟میں تم میں کھڑا ہو کر چلاتا ہوں اور مدد کیلئے پکارتا ہوں لیکن تم نہ میری کوئی بات سنتے ہو، نہ میرا کوئی حکم مانتے ہو۔
اپنی اطاعت کو امامؑ نے اپنا حقِ امامت قرار دیا۔ فرمایا:
اَیُّهَا النَّاسُ! اِنَّ لِیْ عَلَیْكُمْ حَقًّا، وَ لَكُمْ عَلَیَّ حَقٌّ: فَاَمَّا حَقُّكُمْ عَلَیَّ: فَالنَّصِیْحَةُ لَكُمْ، وَ تَوْفِیْرُ فَیْئِكُمْ عَلَیْكُمْ، وَ تَعْلِیْمُكُمْ كَیْلَا تَجْهَلُوْا، وَ تَاْدِیْبُكُمْ كَیْمَا تَعْلَمُوْا. وَ اَمَّا حَقِّیْ عَلَیْكُمْ فَالْوَفَآءُ بِالْبَیْعَةِ، وَ النَّصِیْحَةُ فِی الْمَشْهَدِ وَ الْمَغِیْبِ، وَ الْاِجَابَةُ حِیْنَ اَدْعُوْكُمْ، وَ الطَّاعَةُ حِیْنَ اٰمُرُكُمْ۔(نہج البلاغہ خطبہ 34)
اے لوگو! ایک تو میرا تم پر حق ہے اور ایک تمہارا مجھ پر حق ہے۔ (تمہارا مجھ پر حق یہ ہے) کہ میں تمہاری خیر خواہی پیشِ نظر رکھوں اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصہ دوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو اور اس طرح تمہیں تہذیب سکھاؤں جس پر تم عمل کرو، اور میرا تم پر یہ حق ہے کہ بیعت کی ذمہ داریوں کو پورا کرو اور سامنے اور پس پشت خیر خواہی کرو۔ جب بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔
امام کی اطاعت کو آپؑ نے تعظیم امامت حساب کیا ہے اور فرمایا:وَ الطَّاعَةَ تَعْظِیْمًا لِّلْاِمَامَةِ۔ (نہج البلاغہ حکمت252)
اللہ نے امام کی اطاعت کو امامت کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے فرض قرار دیا ہے۔
اس فرمان میں امامؑ نے واضح فرما دیا کہ امام کی تعظیم و تکریم فقط کہنے سے نہیں بلکہ کہا ماننے سے ظاہر ہو گی۔ اس فرمان کے تحت علامہ مفتی جعفر حسینؒ لکھتے ہیں:
’’امامت‘‘ کے اجرا کا مقصد یہ ہے کہ اُمت کی شیرازہ بندی ہو اور اسلام کے احکام تبدیل و تحریف سے محفوظ رہیں۔ کیونکہ اگر اُمت کا کوئی سربراہ اور دین کا کوئی محافظ نہ ہو تو نہ اُمت کا نظم و نسق باقی رہ سکتا ہے اور نہ احکام دوسرے کی دستبرد سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ اور یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب اُمت پر اس کی اطاعت بھی واجب ہو۔ اس لئے کہ اگر وہ مطاع اور واجب الاطاعت نہ ہوگا تو وہ نہ عدل و انصاف قائم کرسکتا ہے، نہ ظالم سے مظلوم کا حق دلا سکتا ہے، نہ قوانین شریعت کا اجراو نفاذ کرسکتا ہے اور نہ دنیا سے فتنہ و فساد کے ختم ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔( نہج البلاغہ حکمت 252 اردو ترجمہ)
ایک مقام پر امام علیہ السلام نے اپنی اطاعت کو اللہ کے شکر کی طرح لازم قرار دیا۔
فَاِذَا فَعَلْتُ ذٰلِكَ، وَجَبَتْ لِلّٰهِ عَلَیْكُمُ النِّعْمَةُ وَ لِیْ عَلَیْكُمُ الطَّاعَةُ، وَ اَنْ لَّا تَنْكُصُوْا عَنْ دَعْوَةٍ، وَ لَا تُفَرِّطُوْا فِیْ صَلَاحٍ، وَ اَنْ تَخُوْضُوا الْغَمَرَاتِ اِلَى الْحَقِّ.(نہج البلاغہ خط 50)
جب میرا برتاؤ یہ ہو تو تم پر اﷲکے احسان کا شکر لازم ہے اور میری اطاعت بھی، اور یہ کہ کسی پکار پر قدم پیچھے نہ ہٹاؤ، اور نیک کاموں میں کوتاہی نہ کرو، اور حق تک پہنچنے کیلئے سختیوں کا مقابلہ کرو۔
خلاصہ یہ ہے کہ محبت جہاں بھی ہے اُس کے اپنے معیار و تقاضے ہوتے ہیں جن سے محبت کو پرکھا جاتا ہے اور جس طرح خدا اور رسولؐ کی محبت کی شرط اطاعت ہے اور امیر المومنینؑ نے عملاً یہ اطاعت ساری زندگی کر کے دکھائی۔ اسی طرح علیؑ کی محبت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آپؑ کی اطاعت کی جائے۔اور اسی اطاعت کی بنا پر امام نے نجاتِ اخروی کا ذمّہ بھی لیا ہے اور اطاعت نہ کرنے والوں کی سرزنش کی ہے۔ امام ؑ نے اطاعت میں مشکلات کا ذکر بھی فرمایا مگر محبت علیؑ کے بغیر زندگی بے ہدف ہے۔ بقول شاعر
مانا کہ محبت کے ہیں دشوار تقاضے
بے یار کے جینا بھی تو ایک درد سر ی ہے (جلیل قدوائی)
امام ؑ اطاعت خدا و رسول ؐ کے لیے دعا کرتے ہیں جسے یہاں دہراتے ہوئے دعا کرتے ہیں کہ اللہ ہمیں اللہ و رسول و آئمہ کی اطاعت کی توفیق دے
اِسْتَعْمَلَنَا اللهُ وَ اِیَّاكُمْ بِطَاعَتِهٖ وَ طَاعَةِ رَسُوْلِهٖ، وَ عَفَا عَنَّا وَ عَنْكُمْ بِفَضْلِ رَحْمَتِهٖ۔ (نہج البلاغہ خطبہ 188)
خدا وند عالم ہمیں اور تمہیں اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کی توفیق دے اور اپنی رحمت کی فراوانیوں سے ہمیں اور تمہیں دامن عفو میں جگہ دے۔
امام علیہ السلام نے بار بار اپنی امامت، اور لائق اتباع ہونے کو بیان فرمایا اور جنہوں نے اتباع کی اُن کی تعریف اور جنہوں نے نا فرمانی کی اُن کی مذمت کی۔گویا امامؑ لازم قرار دیتے ہیں کہ آپ کی اطاعت کی جائے اور یہ آپ کی پسند ہے۔اس کی چند مثالیں اطاعت میں گزر چکی ہیں۔مثلاً مالک ا شتر کی تعریف میں فرمایا۔
فَاِنْ اَمَرَكُمْ اَنْ تَنْفِرُوْا فَانْفِرُوْا، وَ اِنْ اَمَرَكُمْ اَنْ تُقِیْمُوْا فَاَقِیْمُوْا، فَاِنَّهٗ لَا یُقْدِمُ وَ لَا یُحْجِمُ، وَ لَا یُؤَخِّرُ وَ لَا یُقَدِّمُ اِلَّا عَنْ اَمْرِیْ۔(خط۳۸)
اگر وہ تمہیں دشمنوں کی طرف بڑھنے کیلئے کہیں تو بڑھو اور ٹھہرنے کیلئے کہیں تو ٹھہرے رہو، کیونکہ وہ میرے حکم کے بغیر نہ آگے بڑھیں گے، نہ پیچھے ہٹیں گے، نہ کسی کو پیچھے ہٹاتے ہیں اور نہ آگے بڑھاتے ہیں۔
زندگی کے آخری خطبے میں جسے نوف بکالی نے نقل کیا ہے، اپنے چاہنے والوں کو یاد کرتے ہوئے فرمایا:
اَوْهِ عَلٰۤی اِخْوَانِیَ الَّذِیْنَ تَلَوُا الْقُرْاٰنَ فَاَحْكَمُوْهُ، وَ تَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَاَقَامُوْهُ، اَحْیَوُا السُّنَّةَ، وَ اَمَاتُوا الْبِدْعَةَ، دُعُوْا لِلْجِهَادِ فَاَجَابُوْا، وَ وَثِقُوْا بِالْقَآئِدِ فَاتَّبَعُوْہُ۔ ( خطبہ 180)
آہ! میرے وہ بھائی کہ جنہوں نے قرآن کو پڑھا تو اسے مضبوط کیا، اپنے فرائض میں غورو فکر کیا تو انہیں ادا کیا، سنت کو زندہ کیا اور بدعت کو موت کے گھاٹ اتارا، جہاد کیلئے انہیں بلایا گیا تو انہوں نے لبیک کہی اور اپنے پیشوا پر یقین کامل کے ساتھ بھروسا کیا تو اس کی پیروی بھی کی۔
۳۔ عبادت خدا
امامؑ نے عبد و معبود کے تعلّق کو بارہا بیان فرمایا ہے۔ عبادت یعنی ہر وہ نیک اور مفید عمل جو فقط خدا کے لئے انجام دیا جائے ۔ امامؑ کی زندگی کا ہر قدم فقط خدا کے لئے تھا۔ ایک مقام پر فرمایا:
اِنّیْ اُرِیْدُ کُمْ لِلّٰہِ وَاَنْتُمْ تُرِیْدُوْنَنِیْ لِاَنْفُسِكُمْ۔( نہج البلاغہ خطبہ 134)
میں تمہیں اللہ کے لیے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنے شخصی فوائد کیلئے چاہتے ہو۔
یہ کمالِ بندگی ہے کہ کسی شخص یا کسی چیز کو بھی چاہا جائے تو اللہ کے لیے چاہا جائے۔
امامؑ نے عبادت کو ایک مخصوص طریقے سے تقسیم کیا اور ان اقسام میں سے آزادوں کی عبادت کا خصوصیت سے ذکر کیا گویا خود عبادت کے اُسی معیار پر ہیں۔ فرمایا:
اِنَّ قَوْمًا عَبَدُوا اللهَ رَغْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ التُّجَّارِ، وَ اِنَّ قَوْمًا عَبَدُوا اللهَ رَهْبَةً فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْعَبِیْدِ، وَ اِنَّ قَوْمًا عَبَدُوا اللهَ شُكْرًا فَتِلْكَ عِبَادَةُ الْاَحْرَارِ۔( نہج البلاغہ حکمت 237 )
ایک جماعت نے اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کی یہ سودا کرنے والوں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے خوف کی وجہ سے اس کی عبادت کی اور یہ غلاموں کی عبادت ہے اور ایک جماعت نے ازروئے شکر و سپاس گزاری اس کی عبادت کی یہ آزادوں کی عبادت ہے۔
امامؑ نے ایک مقام پر خالص عبادت کی تعریف میں فرمایا:
وَمَنْ لَمْ یَخْتَلِفْ سِرُّهٗ وَ عَلَانِیَتُهٗ، وَفِعْلُهٗ وَ مَقَالَتُهٗ، فَقَدْ اَدَّی الْاَمَانَةَ، وَاَخْلَصَ الْعِبَادَةَ۔(خط۲۶)
اور جس شخص کا باطن و ظاہر اور کردار و گفتار مختلف نہ ہو، اس نے امانتداری کا فرض انجام دیا اور اللہ کی عبادت میں خلوص سے کا م لیا۔
امامؑ عبادت کے ان تذکروں سے اور اپنے عمل سے متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ میری پسند میں عبادت سرفہرست ہے اِس لیے میری محبت کا تقاضا میری پسند کو اپنانے میں ہے۔
۴۔ محبوب کی پسند و ناپسند
محبوب کی پسند و ناپسند کو اپنی پسند و ناپسند پر ترجیح دینا ہے۔ اپنی خواہشوں اور چاہتوں کو محبوب کی مرضی اور پسند و ناپسند پر قربان کر دینا محبت کا ثبوت ہے۔ محب کی اپنی کوئی پسند نہیں رہتی اُس کا سب کچھ محبوب کی پسند ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئےفرمایا:
قُلۡ اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ۔(انعام۱۶۲)
کہدیجئے: میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب یقینا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
تفسیر نمونہ میں اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:اُسی کے لیے زندہ ہُوں اُسی کے لئے جان دوں گا اُسی کے راستے میں جو کچھ بھی میرے پاس ہے قربان کر دوں گا۔ میری امیدوں کی آماجگاہ ،میرے عشق کی منزل، میری ہستی کا مقصد سب کچھ وہی ہے اِس آیت میں چو نکہ اللہ سے تعلّق کی بات ہے تو یاعبدو معبود کی بات بھی کہی جا سکتی ہے اور محب ومحبوب کی گفتگو بھی شمار ہوتی ہیں۔( تفسیر نمونہ جلد 6 صفحہ 64)
محبوب کی پسندوناپسند کا یہ اصول محبت علیؑ کے دعوے میں بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے اس لیے علی علیہ السلام کی محبت کے نام سے کچھ ایسا طرز عمل بھی اپنایا جاتا ہے جو خود امیرالمومنینؑ کو پسند نہیں ہے اور نہج البلاغہ میں اُس ناپسندگی کا اظہار بھی فرمایا ہے:
هَلَكَ فِیَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ غَالٍ، وَ مُبْغِضٌ قَالٍ!۔(نہج البلاغہ حکمت۱۱۷)
میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاک ہوئے: ایک محبت میں غلو کرنے والا اور دوسرا دُشمنی و عناد رکھنے والا۔
ایک مقام پر فرمایا: یَهْلِكُ فِیَّ رَجُلَانِ: مُحِبٌّ مُّفْرِطٌ، وَ بَاهِتٌ مُّفْتَرٍ۔(نہج البلاغہ حکمت۴۶۹)
میرے بارے میں دوقسم کے لوگ ہلاکت میں مبتلاہوں گے۔ ایک محبت میں حد سے بڑھ جانے والااور دوسرا جھوٹ و افترا باندھنے والا۔
یہ فرامین واضح کرتے ہیں کہ محبت کا ترازو و پیمانہ ضروری ہے ورنہ محبت ہی کے نام سے ہلاکت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
قرآن مجید نے حضرت عیسی علیہ السلام کی عظمت و مقام کو تفصیل سے بیان فرمایا اور پھر عیسائیوں کے محبت کے نظریہ کو حضرت عیسی علیہ السلام ہی کی زبان سے رد کیا ۔
وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِحَقٍّ۔ (مائدہ۱۱۶)
اور (وہ وقت یاد کرو ) جب اللہ نے فرمایا: اے عیسیٰ بن مریم کیا آپ نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کو خدا بناؤ؟ عیسیٰ نے عرض کی: تو پاک ہے میں ایسی بات کیسے کہ سکتا ہوں جس کا مجھے کوئی حق ہی نہیں؟
یہ آیت یہی بتاتی ہے کی محبت کے تقاضے اور حدود لازمی طور پر مد نظر رہنے چاہیں اور محبوب کی تعلیمات پیش نظر رکھنی چاہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام اور جناب مریم سلام اللہ علیہا کو خدا مان لینا محبت نہیں بلکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تعلیمات کی مخالفت کرنا اور رد کرنا ہے۔ امیرالمومنینؑ کی محبت کے معیار میں کو دیکھنا ہے تو آپؑ کی معرفت ضروری ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آپ کو کیا پسند ہے اور کس چیز سے آپ دور رہتے ہیں۔ پسند و ناپسند کو جاننے کے چند طریقے ہیں ۔
۱۔ محبوب نے خود اظہار کیا ہے کہ مجھے کیا پسند ہے اور کس سے مجھے بغض و نفرت ہے
۲۔ آپ نے عملاً کیا انجام دیا اور کن چیزوں سے پرہیز کیا۔
۳۔ وہ اعمال جو کچھ افراد نے انجام دئے اور اُن اعمال کی وجہ سے امامؑ نے اُن کی تعریف کی ہے۔ یا کچھ افراد کی اُن کے اعمال کی وجہ سے مذمت کی ہے ۔مثلاً عمّار و مالک ا شتر و ابوذر جیسوں کی تعریف یا بہت سے افراد کی مذمت کی۔
۴۔ انسان کی فطرت ہے کہ اپنی پسند کا اکثر تذکرہ کرتا ہے اور اس لحاظ سے نہج البلاغہ میں جن چیزوں کو آپؑ نے بار بار یاد کیا اُن سے آپؑ کی پسند کا اندازہ ہوتا ہے۔
۵۔ جن چیزوں سے نفرت ہوتی ہے انسان اُن چیزوں کو دیکھنا بھی نہیں چاہتا اور اُن کے بارے میں کچھ سننا بھی گوارا نہیں کرتا ۔خود نہج البلاغہ میں رسول اللہ ﷺکے حوالے سے امامؑ فرماتے ہیں : مَنْ اَبْغَضَ شَیْئًا اَبْغَضَ اَنْ یَّنْظُرَ اِلَیْهِ، وَ اَنْ یُّذْكَرَ عِنْدَهٗ۔(نہج البلاغ۰ خطبہ ۱۵۸)۔ یونہی جو شخص کسی شے کو برا سمجھتا ہے تو نہ اسے دیکھنا چاہتا ہے اور نہ اس کا ذکر سننا گوارا کرتا ہے۔
۶۔ انسان محبوب کے حکم کا منتظر رہتا ہے کہ وہ کچھ فرمائے تو میں اُسے پورا کر کے اُس کی خوشنودی حاصل کروں اور جس چیز سے محبوب روکے اُس کے قریب بھی نہیں جاتا۔
۷۔ کچھ چاہنے والوں کو بعض چیزوں کا حکم دیا یا اُن کے سامنے اس چیز کی تعریف کی یا بعض چیزوں سے روکا اور مذمت کی تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو بھی ان کا محب ہوگا اسے بھی یہی حکم دیا گیا یااُن کو اِس کام سے روکا گیا یا خبردار کیا گیا ۔مثلاً سلمان فارسی کے سامنے دُنیا کی مذمّت کی یا کمیل کے سامنے علم کی تعریف تو یہ ان کے لیے مخصوص نہیں بلکہسب چاہنے والوں کے لیے ہے۔
یہ ہیں وہ پہلو جن کو محب مدنظر رکھتا ہے اور اسی کی محبت کا ثبوت یہی ہوتاہے کہ محبوب کی پسند و ناپسند کا خیال رکھتا ہے۔ نہج البلاغہ میں ان سات موارد کو دیکھا جائے تو مکمل نہج البلاغہ ان سات حصّوں میں تقسیم ہوگا اور اس سے امیر المومنینؑ سے محبت کے دعوے کی حقیقت واضح ہوگی۔ اُن میں سے چند موارد یہاں پیش کئے جاتے ہیں جن سے علیؑ کو محبت ہے اور آپ کو پسند ہیں اور چند ہی موارد ایسے پیش کیے جائیں گے جن سے آپؑ کو نفرت ہے وہ آپ کو ناپسند ہیں۔
۵۔ قرآن سے محبت :
امام علیہ السلام نے توحید کے بعد جس چیز کا سب سے زیادہ ذکر کیا وہ قرآن مجید ہے ۔اس موضوع پر الگ کتابیں لکھی گئی ہے۔ امامؑ نے قرآن مجید سے اپنے تعلّق کو نمایاں فرمایا: وَ اِنَّ الْكِتَابَ لَمَعِیْ، مَا فَارَقْتُهٗ مُذْ صَحِبْتُهٗ۔( خطبہ 120)
اور کتاب خدا میرے ساتھ ہے اور جب سے میرا اس کا ساتھ ہوا ہے میں اس سے الگ نہیں ہوا۔
خطبہ ۱۷۴ اور ۱۹۶ میں پچاس سے زیادہ فضائل قرآن بیان فرمائے ہیں۔ ایک مقام پر فرماتے ہیں۔
تَعَلَّمُوا الْقُرْاٰنَ فَاِنَّهٗ اَحْسَنُ الْحَدِیْثِ، وَ تَفَقَّهُوْا فِیْهِ فَاِنَّهٗ رَبِیْعُ الْقُلُوْبِ، وَ اسْتَشْفُوْا بِنُوْرِهٖ فَاِنَّهٗ شِفَآءُ الصُّدُوْرِ، وَ اَحْسِنُوْا تِلَاوَتَهٗ فَاِنَّهٗۤ اَنْفَعُ الْقَصَصِ۔(خطبہ ۱۰۸)
اور قرآن کا علم حاصل کرو کہ وہ بہترین کلام ہے اور اس میں غورو فکر کرو کہ یہ دلوں کی بہار ہے اور اس کے نورسے شفا حاصل کرو کہ سینوں (کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں) کیلئے شفا ہے اور اس کی خوبی کے ساتھ تلاوت کرو کہ اس کے واقعات سب واقعات سے زیادہ فائدہ رساں ہیں۔
باپ پر بیٹے کے حق میں سے قرآن کی تعلیم کو بیان فرمایا۔
فَحَقُّ الْوَالِدِ عَلَى الْوَلَدِ اَنْ یُّطِیْعَهُ فِیْ كُلِّ شَیْءٍ اِلَّا فِیْ مَعْصِیَةِ اللهِ سُبْحَانَهٗ. وَ حَقُّ الْوَلَدِ عَلَى الْوَالِدِ اَنْ یُّحَسِّنَ اسْمَهٗ، وَ یُحَسِّنَ اَدَبَهٗ، وَ یُعَلِّمَهُ الْقُرْاٰنَ۔(حکمت۳۹۹)
باپ کا فرزند پر یہ حق ہے کہ وہ سوائے اللہ کی معصیت کے ہر با ت میں اس کی اطاعت کرے ۔اور فرزند کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے ،اچھے اخلاق و آداب سے آراستہ کرے ،اور قرآن کی اسے تعلیم دے ۔
آپ نے اپنی آخری وصیت میں ارشاد فرمایا۔ وَ اللّٰهَ اللّٰهَ فِی الْقُرْاٰنِ، لَا یَسْبِقُكُمْ بِالْعَمَلِ بِهٖ غَیْرُكُمْ۔ (وصیت 47)
قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا۔ ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل کرنے میں تم پر سبقت لے جائیں۔
امام کی اتنی تاکید وں کے بعد امام کی محبت کا آسان ترازو ہا تھ آ گیا کہ امام سے محبت کے دعوے کے ساتھ قرآن سے ہماری کتنی محبت اور امام کی اس محبوب چیز کی کتنی اہمیت ہے
۶۔ عدل وانصاف کے مطابق عمل
عدل اما م السلام کی زندگی کا وہ عمل ہے جسے مسلم و غیر مسلم دانشوروں کے ہاں بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے ۔ایک لبنانی عیسائی دانشور پروفیسر جورج جرداق نے “امام علی ندائے عدالت انسانی” کے نام سے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے جسے دنیا بھر میں بہت پسند کیا گیا۔
انہوں نے نہج البلاغہ سے امام علیہ السلام کے عدالت سے متعلق فرامین جمع کئے۔
امام علیہ السلام نے ایک مقام پر اللہ کے محبوب بندوں کے اوصاف بیان فرمائے ۔ خطبہ کے ابتداء میں فرمایا: “عِبَادَ اللهِ! اِنَّ مِنْ اَحَبِّ عِبَادِ اللهِ”
اللہ کے بندو! اللہ کو اپنے بندوں میں سب سے زیادہ وہ بندہ محبوب ہے۔ اُن میں سے صفت عدل کے بارے فرمایا:
قَدْ اَلْزَمَ نَفْسَهُ الْعَدْلَ، فَكَانَ اَوَّلُ عَدْلِهٖ نَفْیَ الْهَوٰی عَنْ نَّفْسِهٖ، (خطبہ۸۵)
اس نے اپنے لئے عدل کو لازم کر لیا ہے چنانچہ اس کے عدل کا پہلا قدم خواہشوں کو اپنے نفس سے دور رکھنا ہے۔
حکمرانوں کے لئے فرمایا:
وَ اِنَّ اَفْضَلَ قُرَّةِ عَیْنِ الْوُلَاةِ اسْتِقَامَةُ الْعَدْلِ فِی الْبِلَادِ، وَ ظُهُوْرُ مَوَدَّةِ الرَّعِیَّةِ۔(خط ۵۳)
حکمرانوں کیلئے سب سے بڑی آنکھوں کی ٹھنڈک ا س میں ہے کہ شہروں میں عدل و انصاف برقرار رہے، اور رعایا کی محبت ظاہرہوتی رہے۔
اور اپنی عدالت کے بارے میں فرمایا:(الَم) وَ اَلْبَسْتُكُمُ الْعَافِیَةَ مِنْ عَدْلِیْ۔(خطبہ ۸۵)
کیا میں نے اپنے عدل سے تمہیں عافیت کے جا مے نہیں پہنائے۔
امام علیہ السلام نے اپنے گورنروں اور کارندوں کو شدّت سے عدالت کی تائید فرمائی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کو اس صفت سے کتنا پیار تھا، اور جس سے امام کا پیار ہو اُسے اپنا کر امام کا پیارومحبت خریدی جا سکتی ہے۔
۷۔ علم کےحصول
امام علیہ السلام کی فضیلتوں میں سے سر فہرست فضیلت جس پر آپ نے خود فخر بھی کیا ہے وہ فضیلت علم ہے ۔امامؑ نے اپنے سینہ اقدس کی طرف اشارہ فرما کر اپنے علم کی وسعت کا اظہار یُوں فرمایا:
هَا! اِنَّ هٰهُنَا لَعِلْمًا جَمًّا (وَ اَشَارَ اِلٰى صَدْرِهٖ:) لَوْ اَصَبْتُ لَهٗ حَمَلَةً!۔(حکمت ۱۴۷)
دیکھو!یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔کا ش! اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے ۔
اسی حکمت میں جناب کمیل کے سامنے علم کی سات فضیلتیں بیان فرمائیں اور پھر اس تمنا کا اظہار کیا کہ کاش وہ علم جو میرے پاس ہے اسے کوئی لینے والا مل جاتا۔
امام کی تمنا رہی اور اعلان کرتے رہے کہ مجھ سے کوئی پوچھ لے، فرمایا:
سَلُوْنِیْ قَبْلَ اَنْ تَفْقِدُوْنِیْ۔ (خطبہ ۱۸۷)
مجھے کھو دینے سے پہلے مجھ سے پوچھ لو۔
ایک مقام پر فرمایا:
فَاسْمَعَوْا اَیُّهَا النَّاسُ وَ عُوْا، وَ اَحْضِرُوْۤا اٰذَانَ قُلُوْبِكُمْ تَفْهَمُوْا۔(خطبہ ۱۸۵)
اے لوگو! سنو اور یاد رکھو اور دل کے کانوں کو (کھول کر)سامنے لاؤ، تاکہ سمجھ سکو۔
امام کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ صاحب علم جو سلونی کے اعلان کر رہا ہے اُس سے اپنے علم کے بڑھانے کے لئے کچھ لیا جائے۔ اور علم سے محبت کی جائے جو امام کی محبوب چیز ہے ۔
۸۔ علماء دوستی:
امام ؑ نے علم سے محبت کے ساتھ اہل علم سے محبت،صاحبان علم کی تعظیم اور ان سے سیکھنے کی تلقین فرمائی۔ آپؑ کے ایک ف فرمان کے مطابق:
مَاۤ اَخَذَ اللهُ عَلٰۤى اَهْلِ الْجَهْلِ اَنْ یَّتَعَلَّمُوْا حَتّٰۤى اَخَذَ عَلٰۤى اَهْلِ الْعِلْمِ اَنْ یُّعَلِّمُوْا۔ (حکمت۴۷۸)
خدا وندِ عالم نے جاہلوں سے اس وقت تک سیکھنے کا عہد نہیں لیا جب تک جاننے والوں سے یہ عہد نہیں لیا کہ وہ سکھانے میں دریغ نہ کریں ۔
جب علماء کی ذمہ داری ہے سکھانا توعوام کی ذمہ داری اور فریضہ ہے کہ سیکھیں۔ اہل بیتؑ کو امام علیہ السلام نے علم کے خزانے اور پناہ گاہیں قرار دیا۔ فرمایا:وَ عَیْبَةُعِلْمِهٖ، وَ مَوْئِلُ حِكَمِهٖ، وَ كُهُوْفُ كُتُبِهٖ۔ (خطبہ2)
علمِ الٰہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں، کتب (آسمانی) کی گھاٹیاں ہیں۔
اس فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ اہلبیتؑ اور اِن کے علوم کے خزانے سمیٹنے والے علماء سےیہ خزانے لینے چاہئں اور وہ تبھی ہوگا جب اُن کی اہمیت کا احساس ہوگا اور اُن سے قربت ہو گی۔ امام علیہ السلام نے مالک اشتر کو اپنے مشہور دستورِ حکومت میں فرمایا: . وَ اَكْثِرْ مُدَارَسَةَ الْعُلَمَآءِ وَ مُنَافَثَةَ الْحُكَمَآءِ۔ (خط۵۳)
علماء و حکماء کے ساتھ کثر ت کے ساتھ مشورہ اور بات چیت کرتے رہنا ۔
مکہ کے گورنر اپنے چچا زاد بھائی قثم بن العباس سے فرمایا :
وَ عَلِّمِ الْجَاهِلَ، وَ ذَاكِرِ الْعَالِمَ۔(خط۶۷)
جاہل کو تعلیم دو اور عالم سے تبادلہ خیال کرو۔
مالک اشتر جیسے ساتھی کو علماءکے ساتھ مشورے کی تاکید بتاتی ہے کہ امام کو یہ بات کتنی پسند تھی ۔ امامؑ کی اس پسند کو اگر معاشرہ میں پسند کیا جاتا ہے تو یہ محبت علی علیہ السلام کا ایک ثبوت ہے اور اگر علماء صالح سے دوری ہے تو محبت کے تقاضے گو یا پورے نہیں کیے جا رہے ہیں۔
نہج البلاغہ میں امام علیہ السلام کے پسند کی مزید چیزوں کا نام پیش کیا جا رہا ہے۔ تفصیل اگلے مقالے میں ان شاء اللہ۔
(10) نماز اوّل وقت (۱۱)امر بالمعروف(۱۲) اللہ کی خاطر محبت (۱۳)قناعت (۱۴)بھائی چارہ(۱۵) دوسروں کا احترام (۱۶)محتاج کی حاجت روائی (۱۷)مظلوم کی مدد (۱۸)سخاوت (۱۹)عفو و درگذر (۲۰)حسن ظن(۲۱)عمل صالح(۲۲)ہدایت و رہنمائی (۲۳)یادِ آخرت (۲۴)تقویٰ (۲۵)صلۃ الرحم ۔
اسی طرح امامؑ کی ناپسند چیزوں کی بھی ایک مختصر فہرست پیش کی جارہی ہے جن کی تفصیل آئندہ بیان ہوگی۔
(۱) تکبر (۲)لمبی امیدیں (۳)لالچ (۴)محبت دنیا (۵)ظلم (۶)سوء ظن (۷)زبان درازی(۸) تفرقہ(۹) ریاء (۱۰)فتنہ۔
منابع:
۱۔ قرآن مجید:ترجمہ علامہ شیخ محسن علی نجفی
2۔ تفسیر نمونہ،ناصر مکارم شیرازی،مترجم : سید صفدر حسین نجفی،ایڈیشن اول،ج۲،ص۳۳۶۔
۲۔سیرتِ امیرالمؤمنین،مفتی جعفر حسین،ناشر :امامیہ کتب خانہ موچی دروازہ لاہور۔
۳۔نہج البلاغہ،علامہ شریف رضیؒ،مترجم:مفتی جعفر حسین،ناشر مرکز افکار اسلامی پاکستان،اشاعت دوم مارچ ۲۰۲۰ء۔
4۔ الخمیس فی احوال الانفس النفیس ، حسین بن محمد بن حسن دیار بکری، ناشر :مطبعۃ عثمان عبد الرزاق۔تاریخ نشر:1302۔
5۔ کفایۃ الطالب فی مناقب علی ابنِ ابی طالب علیہ السلام، الحافظ محمد بن یوسف الگنجی الشافعی ؒ،ناشر:دار احیاء تراث اھل بیت،تاریخ نشر:1404ق۔
