منافقین کی علامات
ماخوذ از تفسیر الکوثر مفسر علامہ الشیخ محسن علی النجفی
۱۔ خودفریبی
یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ﴿البقرۃ: ۹﴾
وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، جبکہ (حقیقت میں) وہ صرف اپنی ذات کو ہی دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔
غیرشعوری ناکامی: وہ اپنے آپ کو ایماندار ظاہر کرتے ہوئے بزعم خود اللہ اور مؤمنین کو دھوکا دے رہے ہیں اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہم اس سازش میں کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں، جب کہ در حقیقت غیر شعوری طور پروہ خود دھوکا کھا رہے ہیں۔
اہم نکات
۱۔ منافقین اس بات کا شعور نہیں رکھتے کہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکا دے رہے ہیں۔
۲۔ اللہ سے اپنے دل کا حال چھپانا خود فر یبی ہے۔
تحقیق مزید: مستدرک الوسائل ۱ : ۱۰۷([1])
۲۔ منافقین روح اور عقل بیمار
فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ وَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ﴿البقرۃ:۱۰﴾
ان کے دلوں میں بیماری ہے، پس اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھا دی اور ان کے لیے دردناک عذاب اس وجہ سے ہے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے۔
قلب کی بیماری: یہ منافقین کی دوسری علامت ہے۔ قلب سے مراد روح و عقل ہے۔ یعنی منافقین کی روح اور عقل بیمار ہیں۔ جس طرح جسمانی مرض کی صورت میں پورا جسمانی نظام درہم برہم ہو جاتا ہے ، بدن سست ہو جاتا ہے اور اعضائے بدن اپنے فرائض کی بجاآوری کے قابل نہیں رہتے اور ایک موزوں غذا بھی ناموزوں اور ایک لذیذ طعام بھی ناگوار گزرتا ہے، بالکل اسی طرح منافق کی عقل بھی معقول باتوں کا ادراک نہیں کر سکتی اور مفید باتوں اور واضح دلائل و براہین کو سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ یہ مرض منافقین کے اپنے عمل سے پیدا ہوتا ہے اور جب یہ قابل علاج نہ رہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے حال پر ہی چھوڑ دیتا ہے۔ چنانچہ مرض کے مضر اثرات اورمہلک جراثیم مکمل طورپر اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور ایسا ہونا قانون فطرت کے عین مطابق ہے۔ لہٰذا خدا کی طرف اس کی نسبت دینا درست ہے، البتہ اس کے ذمہ دار خود منافقین ہیں۔
اہم نکات
۱۔ منافقت وہ مہلک مرض ہے،جو قانون طبیعت کے تحت پھیلتا ہے۔
۲۔ منافقین کی دروغ گوئی گناہوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔([2])
۳۔ منافقین فساد پھیلانے والے
وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ۙ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ﴿۱۱﴾ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ﴿البقرۃ: 11-۱۲﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو کہتے ہیں: ہم تو بس اصلاح کرنے والے ہیں۔ یاد رہے! فسادی تو یہی لوگ ہیں، لیکن وہ اس کا شعور نہیں رکھتے۔
فساد فی الارض: منافقین کی تیسری علامت یہ ہے کہ وہ معاشرے کا امن و سکون برباد کرتے، لوگوں کے درمیان نفرت کا بیج بوتے اور ان میں تفرقہ ڈالتے ہیں۔ پھر وہ اس تخریب کاری کو اصلاح کا نام دے کر یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ہم تواجتماعی مفادات کے تحفظ کی خاطر یہ کام کر رہے ہیں۔ ہم تو عوام کی فلاح و بہبود میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس قسم کے دلفریب نعروں کی آڑ میں یہ لوگ اقوام و مذاہب کا استحصال کرتے ہیں اور ان میں خانہ جنگی کراتے ہیں اور اس طرح ان پر حکومت کرتے ہیں۔ منافقین کا یہ رویہ جس طرح عصر رسالت(ص) کے معاشرے میں رہا ہے، آج بھی جاری ہے۔ البتہ اب ان کا دائرۀ عمل وسیع ہو گیا ہے۔
اہم نکات
۱۔ اصلاح کے روپ میں تخریب کاری منافقین کا شیوہ ہے: اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۔
۲۔ منافقین ہمیشہ دلفریب نعروں کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں: اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ۔
۳۔ حق کی جماعت منافقین کی سازشوں پرنظر رکھتی ہے ۔ لَا تُفْسِدُوْا ۔۔۔([3])
۴۔ اہل ایمان کی تحقیر
وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَہَآءُ ؕ اَلَآ اِنَّہُمْ ہُمُ السُّفَہَآءُ وَ لٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ﴿البقرۃ: ۱۳﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ دیگر لوگوں کی طرح تم بھی ایمان لے آؤ تو وہ کہتے ہیں: کیا ہم (بھی ان) بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں؟ یاد رہے! بیوقوف تو خود یہی لوگ ہیں لیکن یہ اس کا (بھی) علم نہیں رکھتے۔
منافقین کی چوتھی علامت یہ ہے کہ وہ مؤمنین کومعاشرے کا ادنیٰ طبقہ سمجھتے اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ صرف بیوقوف لوگ ہی انبیاءؑ پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ نظریہ سابقہ انبیاءؑ کی امتوں کے بارے میں بھی قائم کیا جاتا رہا ہے۔ حضرت نو ح (ع) کی امت کے بارے میں کافر کہتے تھے :
قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ۱۱۱ۭ (۲۶ شعراء: ۱۱۱)
انہوں نے کہا: ہم تم پر کیسے ایمان لے آئیں جب کہ ادنیٰ درجے کے لوگ تمہارے پیروکار ہیں۔
اور آج کل بھی اہل دین کے ساتھ یہی رویہ اختیارکیاجاتاہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے انہیں ارذل یا سفہاء کہا جاتا تھا اور آج کل رجعت پسند، جمود پسند یا قدامت پرست وغیرہ کہا جاتا ہے۔
خالق فرماتا ہے کہ چند روزکے دنیاوی مفاد کی خاطر ابدی زندگی تباہ کرنے والے لوگ ہی درحقیقت احمق ہیں۔
اہم نکات
۱۔ منافق لوگ دینداروں کو احمق و حقیرجب کہ اپنے آپ کو عاقل اور ان سے برتر سمجھتے ہیں۔
۲۔ دیرپا اور حقیقی فائدے کوچھوڑ کر وقتی اور عارضی مفادات کے پیچھے جانا ہی اصل حماقت ہے۔
۳۔ منافقین اہل ایمان کی تحقیر کے لیے ہردور میں نت نئے حربے استعمال کرتے آئے ہیں۔
۴۔ حبّ دنیا عقل و دل اور نظریات پر پردہ ڈال دیتی ہے ۔([4])
۵۔ دو رخی اور دو روئی
وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاوَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِءُوْنَ﴿۱۴﴾ اَللّٰہُ یَسْتَہْزِئُ بِہِمْ وَ یَمُدُّہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ﴿البقرۃ: 14-۱۵﴾
اور جب وہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں کے ساتھ تخلیے میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں: ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، (ان مسلمانوں کا تو) ہم صرف مذاق اڑاتے ہیں۔ اللہ بھی ان کے ساتھ تمسخر کرتا ہے اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ یہ اپنی سرکشی میں سرگرداں رہیں گے۔
سازش اور تمسخر: منافقین کی پانچویں علامت یہ ہے کہ وہ داخلی طور پر کچھ ہوتے ہیں اورخارجی طرز عمل کچھ اور رکھتے ہیں۔ درون خانہ یہ لوگ دشمنوں سے وابستہ ہوتے ہیں: اِنَّا مَعَکُمْ اور مسلمانوں سے ملاقات کے وقت اٰمَنَّا کہکر ان کے ہم خیال بنتے ہیں اوراپنے حقیقی ہم خیال ساتھیوں کو یہ تسلی دیتے ہیں کہ ہم تو مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ خالق فرماتا ہے : اَللّٰہُ یَسْتَہْزِئُ بِہِمْ۔ البتہ اللہ تعالیٰ کا تمسخر یہ ہے کہ تمسخر کرنے والے جس سزا کے مستحق ہیں، وہ سزا انہیں دیتا ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ جب منافقین نے مؤمنین سے تمسخر کیا تو اللہ نے مؤمنین سے یہ نہیں فرمایا کہ تم بھی منافقین کے تمسخر کا جواب تمسخر سے دو، جیسا کہ حضرت نوح (ع) نے فرمایا:
اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُوْنَ (۱۱ ہود :۳۸)
اگر آج تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو کل ہم اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے، جیسے تم مذاق اڑاتے ہو۔
بلکہ امت محمدی (ص) سے تمسخر کرنے پر ذات احدیت کو منافقین پر جلال آیا اور فرمایا کہ اس تمسخر کا جواب میں خود دوں گا: وَ یَمُدُّہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ اور خدائی تمسخر کا طریقہ یہ ہے کہ ان منافقین کو سرکشی میں ڈھیل دے کر مزید تباہی سے دوچار کر دیا جائے، جیساکہ ایک جگہ ارشاد قدرت ہے:
وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِہِمْ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًا ۚ وَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ (۳ آل عمران: ۱۷۸)
اور کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ ہم تو انہیں صرف اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ یہ لوگ اپنے گناہوں میں اور اضافہ کر لیں اور آخرکار ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا۔
فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ (۱۰یونس: ۱۱)
لیکن جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ہم انہیں مہلت دیے رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
اہم نکات
۱۔ سازش اور دو روئی منافقت ہے۔
۲۔ خدا نے منافقین کے تمسخر کاجواب ان کی سرگردانی کی شکل میں دیاہے ۔
۳۔ اہل حق کے ساتھ ظاہرداری اور باطل طاقتوں کے ساتھ خفیہ اور صمیمانہ تعلقات رکھنا نفاق کی علامت ہے۔
۴۔ شیاطین ہی منافق کی پشت پناہی کرتے ہیں۔
تحقیق مزید: بحار الانوار ۶ : ۵۱([5])
[1] ۔ الکوثر فی تفسیر القران جلد 1 صفحہ 232
[2] ۔ الکوثر فی تفسیر القران جلد 1 صفحہ 232
[3] ۔ الکوثر فی تفسیر القران جلد 1 صفحہ 233
[4] ۔ الکوثر فی تفسیر القران جلد 1 صفحہ 234
[5] ۔ الکوثر فی تفسیر القران جلد 1 صفحہ 235
