Articles

مقوّیاتِ عقل قرآن و سنت کی روشنی میں

عقل

 

مقوّیاتِ عقل قرآن و سنت کی روشنی میں

از محمد حسن نصراللہ

ماخوز از مجلہ الکوثر

 

مقوّیاتِ عقل قرآن و سنت کی روشنی میں

چکیدہ

عقل بنی نوعِ انسان کو عطا کر دہ نعماتِ الٰہی میں سے سب سے بڑی نعمت ہے اسی کی وجہ سے انسان باقی حیوانوں سے جدا ہوجاتا ہے اور اس نعمتِ عظمیٰ کو احادیث میں حجتِ باطنی سے تعبیر کیا گیا ہے لہذا انسان کو چاہئے کہ وہ اس عظیم نعمت سے بھر پور استفادہ کرنے کے ساتھ اس  کا خاص خیال  بھی رکھیں اور اس میں کمی آنے نہ دیں کیونکہ ہر چیز کو قوی اور کمزور کرنے والے کچھ اسباب ہوتے ہیں اسی طرح عقل انسانی کو بھی قوی اور کمزور کرنے والے کچھ اسباب موجود ہیں جو کہ قرآن و احادیث میں بیان ہوئے ہیں  لہذا اسی سلسلہ کی کچھ تحقیق کرنے کیلئے ہم نے موضوع (مقویاتِ عقل قرآن و سنت کی روشنی میں ) کا انتخاب کیا ہے اور  اس موضوع میں ہم قرآنی آیات اور احادیث پیغمبرؐ و ائمہ معصومینؑ سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کن چیزوں سے انسان کی عقل پختہ اور مضبوط ہوتی ہے۔

مقدمہ 

عقل خدا کی طرف سے عطا ہونے والی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے ، جس کا جتنا بھی شکر ادا کرے کم ہے ،  اس نعمت کا انداز اس کی اہمیت کے ذریعہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ یہ خدا کی محبوب ترین مخلوق ہونے کے ساتھ انسان کے اعمال کی  قبولیت  اور روزِ جزا ثواب وعقاب   کا  معیار بھی  ہے۔   یہ ایک ایسی  عطاء ہے  جس میں اضافہ کے ساتھ  انجام دئے جانے والا ہر عمل کی قیمت بھی بڑھتی ہے۔ اگر یہ نعمت چھن جائے تو انسان حیوان  میں شمار ہوتا ہے۔  اللہ رب العزت نے اس کو خلق کرنے کے بعد  جمود کا شکار نہیں  بنایا بلکہ مختلف اسباب وذرائع کے ذریعہ اس کی تقویت کا بھی اہتمام فرمایا۔ اسی اہمیت کے پیش نظر اس مقالے میں دو اہم  مصادر ِتشریع؛  قرآن وسنت  میں عقل کی تقویت کا سبب بننے والی اشیاء کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے۔ یوں قرآن وسنت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بہت سارے عوامل ہیں جن کے ذریعہ انسان اپنی عقل کو تقویت دیکر قرب الٰہی اور فیض الٰہی حاصل کرسکتا ہے، لیکن یہاں پر چند ایک کو بیان کرنے پر اکتفاء کیا جائے گا۔

عقل کے معنی

لغت میں عقل کے معنی منع کرنا، باز رکھنا اور  روکنے  کے ہیں۔[1] جبکہ عقل انسان کے اندر موجود اس  قوت کو کہا جاتا ہے جو اسے فکری جہالت سے بچاتی ہے اور عملی لغزش سے باز رکھتی ہےجیسے  رسول خداؐ  فرماتے ہیں: إِنَّ اَلْعَقْلَ عِقَالٌ مِنَ اَلْجَهْلِ[2] ۔ عقل جہالت سے باز رکھتی ہے ۔

عقل اسلامی روایات میں

جب نبی اکرمﷺ سے پوچھا  گیا، کہ عقل کیا ہے، تو آپﷺ  نے ارشاد فرمایا:

لَمّا سُئلَ عَنِ العَقلِ:العَمَلُ بِطاعَةِ اللّهِ، وإنَّ العُمّالَ بِطاعَةِ اللّه ِ هُمُ العُقَلاءُ[3]

اطاعتِ الٰہی میں عمل کرنا،بتحقیق جو لوگ  اطاعتِ الٰہی میں عمل کرتا ہے وہ عاقل کہلاتے ہیں ۔

العَقلُ نورٌ خَلَقَهُ اللهُ لِلإنسانِ ، وجَعَلَهُ يُضيءُ عَلَى القَلبِ لِيَعرِفَ بهِ الفَرقَ بَينَ المُشاهَداتِ مِنَ المُغَيَّباتِ[4]

رسول اللہ ؐ  :عقل نور ہے جسے اللہ نے انسانوں کے لیے خلق فرمایا ہے اور اسے دلوں کی نورانیت قرار دیا ہے تاکہ اس سے غیب اور حاضر کا فرق جانچا جاسکے۔

 جبکہ امام علیؑ سے منقول ہے: العَقلُ حِفظُ التَّجارِبِ ، وخَيرُ ما جَرَّبتَ ما وَعَظَكَ[5]

عقل تجربات کی حفاظت کا نام ہے اور بہترین تجربہ وہ ہے جس سے مجھے پند و نصیحت حاصل ہو۔

جب امام حسن ؑ سے پوچھا  گیا، کہ عقل کیا ہے، تو آپؑ نے ارشاد فرمایا:

التَّجَرُّعُ لِلغُصَّةِ حَتّى تَنالَ الفُرصَةَ[6]

عقل کیا چیز ہے؟آپ ؑ نے فرمایا: غصہ کو (گھونٹ گھونٹ کر کے) پی جانا، یہاں تک کہ فرصت حاصل ہوجائے۔

لَمّا سَألَهُ أبوهُ عَنِ العَقلِ: حِفظُ قَلبِكَ ما استَودَعتَهُ[7]۔ امام حسن ؑ :جب آپ ؑ سے آپ ؑ کے والد نے سوال کیا کہ عقل کیا ہے؟ فرمایا: جو کچھ دل کے سپرد کیا ہے اسے یاد رکھنا۔

جب صادق علیہ السلام پوچھا گیا، کہ عقل کیا ہے، تو آپ نے ارشاد فرمایا:

قَالَ : مَا عُبِدَ بِهِ اَلرَّحْمَنُ وَ اُكْتُسِبَ بِهِ اَلْجِنَانُ[8]

آپؑ  نے فرمایا: جس سے رحمٰن کی عبادت کی جائے اور جنت کو حاصل کیا جائے۔

نتیجہ: ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ عقل انسان کے اندر موجود  اس قوت  کا نام ہے جو انسان کو ہمیشہ اطاعت الٰہی کے قریب اور معصیتِ الٰہی سے دور کرنے کے  ساتھ پروردگارِ عالم کی طرف سے وعدہ شدہ نعمات کے حصول کا ذرئعہ  اور  اچھائی اور برائی میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرتی  ہے لہذا انسان کو چاہئے کہ وہ اس قوت سے استفادہ کریں۔

وہ چیزیں جو عقل کو تقویت دیتی ہے۔

1۔ إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ[9]

ہم نے اس (قرآن) کو عربی قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھ لو۔

2۔ اِنَّـآ اَنْزَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ[10]

ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا تاکہ تم سمجھ سکو۔

3۔ لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ[11]
بتحقیق ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہاری نصیحت ہے تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟

4۔ یَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَا اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا[12]۔ اے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس واضح دلیل آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف روشن نور نازل کیا ہے۔

اس آیت میں لفظِ   برھان  سے مراد رسولؐ کی ذات ہے اور لفظِ  نورا مبینا سے مراد قرآن مجید ہے۔[13]

5۔ إِنَّ فِی ذَلِكَ لَآیاتٍ لِقَوْمٍ یعْقِلُونَ[14]

عقل سے کام لینے والوں کے لیے یقینا  اس میں نشانیاں ہیں۔

1۔ فَبَعَثَ فِيهِمْ رُسُلَهُ وَ وَاتَرَ إِلَيْهِمْ أَنْبِيَاءَهُ لِيَسْتَأْدُوهُمْ مِيثَاقَ فِطْرَتِهِ وَ يُذَكِّرُوهُمْ مَنْسِيَّ نِعْمَتِهِ وَ يَحْتَجُّوا عَلَيْهِمْ بِالتَّبْلِيغِ وَ يُثِيرُوا لَهُمْ دَفَائِنَ اَلْعُقُولِ[15]

 امام علی ؑ :  پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے ، انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کے عہد و پیمان پورے کرائیں اور انہیں بھولی ہوئی نعمتِ پروردگار کو یاد دلائیں، تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کو باہر لائیں۔
2۔إِلَى أَنْ بَعَثَ اللَّه سُبْحَانَه مُحَمَّداً، رَسُولَ اللَّه صلى‌الله‌عليه‌وآله لإِنْجَازِ عِدَتِه وإِتْمَامِ نُبُوَّتِه، مَأْخُوذاً عَلَى النَّبِيِّينَ مِيثَاقُه، مَشْهُورَةً سِمَاتُه كَرِيماً مِيلَادُه، وأَهْلُ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ مِلَلٌ مُتَفَرِّقَةٌ، وأَهْوَاءٌ مُنْتَشِرَةٌ وطَرَائِقُ مُتَشَتِّتَةٌ، بَيْنَ مُشَبِّه لِلَّه بِخَلْقِه أَوْ مُلْحِدٍ فِي اسْمِه، أَوْ مُشِيرٍ إِلَى غَيْرِه، فَهَدَاهُمْ بِه مِنَ الضَّلَالَةِ وأَنْقَذَهُمْ بِمَكَانِه مِنَ الْجَهَالَةِ[16]

امام علی ؑ : یہاں تک کہ مالک نے اپنے وعدہ کو پورا کرنے اور اپنے نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد(ص) کو بھیج دیا جن کے بارے میں انبیاء سے عہد لیا جا چکا تھا اور جن کی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود و مبارک تھی۔اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب’منتشر خواہشات اورمختلف راستوں پر گامزن تھے۔کوئی خدا کو مخلوقات کی شبیہ بتا رہا تھا۔کوئی اس کے ناموں کوبگاڑ رہا تھا۔اور کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا۔مالک نے آپ ؐ کے ذریعہسب کو گمراہی سے ہدایت دی اورجہالت سے باہر نکال لیا۔

اللہ تعالٰی نے  بنی نوعِ انسان کو عقل جیسی قوت سے نوازنے کے بعد اس قوت کو مزید تقویت دینے کیلئے وحی کا سلسلہ شروع کیا  ،جس میں ہردور  میں  رسولوں کا مبعوث کرنا  اور آسمانی صحیفوں کا نازل کرنا شامل  ہے۔

لہذا اوپر ذکر کردہ آیات و احادیث   میں ان دو چیزوں کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جو انسان کو عقل سے کام لینے اور غور و فکر کرنے کا درس دیتی ہیں۔

1۔ اللہ تعالٰی نے رسولؐ کو مبعوث کیا ہے تاکہ لوگوں کی عقل کے خزانوں کو باہر لائیں اور ان کو یہ باور کرائیں کہ اپنی حجتِ باطنی کو بروئے کار لاتے ہوئے تم  جہالت اور گمراہی سے نکل کر علم و آگاہی اور اطاعتِ خدا وندی کے راہ پر گامزن ہوسکتے ہو۔

2۔دستورِ حیات پر مشتمل قرآنِ مجید کو آسان فہم بنا کر   نازل کیا  تاکہ انسان اس میں غور و فکر کریں ۔

لہذا عاقل وہی کہلائے گا جو رسولؐ کی اتباع اور دستورِ قرآن پر عمل کرے گاکیونکہ ان کا کام انسان کو اس کے اندر چھپی قوتِ عقلی سے استفادہ کرتے  ہوئے حیوانوں سے ممتاز ہو کر بہترین زندگی گزارنے اور علم و حکمت سے خود کو روشناس کرانے کے ساتھ آیاتِ الہی میں  غور و فکر کرنے کی طرف دعوت دینا ہے چونکہ قرآن مجید میں جس انسانی گروہ کی تعریف کی گئی ہے، وہ گروہ عقل سے کام لینے میں ساری انسانیت کے بیچ منفرد وممتاز نظر آتا ہے۔ عقل اس گروہ کی سب سے نمایاں صفت قرار پاتی ہیں۔

۲۔ تواضع

1۔ كمال العقل في ثلاث : التواضع لله ، وحسن اليقين ، والصمت إلّا من خير[17]

امام علیؑ : عقل کی کمال تین چیزوں میں ہے 1۔ اللہ کیلئے تواضع کرنا 2۔ حسنِ یقین 3۔ اچھائی کے علاوہ کچھ نہ بولنا۔

2۔ شرُّ آفاتِ العقلِ الكِبْرُ[18]

 امام علی ؑ : عقل کی بدترین آفت تکبر ہے ۔
3۔ ما دَخَلَ قَلبَ امْرِئٍ شَيءٌ مِنَ الكِبرِ إلاّ نَقَصَ مِن عَقلِهِ[19]

امام باقرؑ : تکبر کسی شخص کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ تکبر کے تناسب سے اسکی عقل گھٹ جاتی ہے ۔

4۔ عُجْبُ الْمَرْءِ بِنَفْسِه أَحَدُ حُسَّادِ عَقْلِه[20]

 امام علی ؑ : انسان کا خودپسندی میں مبتلا ہو جانا خود اپنی عقل سے حسد کرنا ہے ۔

5۔ إعجابُ المَرءِ بِنَفسِهِ دَليلٌ عَلى ضَعفِ عَقلِهِ[21]

امام علی ؑ :انسان کی خودپسندی اس کی عقل کی کمزوری کی دلیل ہے۔

  • اللہ کیلئے انسان کا متواضع ہونا یہ اس کی کمالِ عقل کی نشانی ہے کیونکہ احادیث سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ تکبّر اور خود پسندی کم عقلی کی نشانی اور عقل کی بربادی کا ذریعہ ہے۔

۳۔ غصہ پر قابو رکھنا

1۔الغَضَبُ يُفسِدُ الألبابَ ، و يُبعِدُ مِن الصَّوابِ[22]

امام علی ؑ : غیظ و غضب عقل کو تباہ اور حقیقت سے دور کرتا ہے ۔
2۔ مَن لَم يَملِكْ غَضَبَهُ لَم يَملِكْ عَقلَهُ[23]

امام صادقؑ :  جو شخص اپنے غیظ و غضب پر قابو نہیں رکھتا وہ اپنی عقل کا مالک نہیں ہے۔

  • انسان کی خصلات میں سے ایک خصلت غصہ آناہے اگر چہ اس کا اپنا محل ہے لیکن انسان کو چاہئے کہ اپنے غصہ پر کنٹرول کریں کیونکہ غصہ انسان کی عقل کو تباہ کر دیتا ہے۔

۴۔ صاحبانِ عقل  کی باتوں کو سننا

مَن تَرَكَ الاستِماعَ مِن ذَوي العُقولِ ماتَ عَقلُهُ[24]
امام علی ؑ : جو شخص صاحبان عقل کی باتیں نہیں سنتا اسکی عقل مردہ ہو جاتی ہے ۔

  • صاحبانِ عقل کی باتوں کو سننے سے انسان کی عقل زندہ ہوجاتی ہے یعنی بڑھ جاتی ہے چونکہ  حدیث میں کہا گیا ہے کہ  صاحبانِ عقل کی باتوں کو نہ سننے  سے انسان کی عقل مردہ ہو جاتی ہے۔

۵۔ علم

وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُـهَا لِلنَّاسِ وَمَا يَعْقِلُـهَآ اِلَّا الْعَالِمُوْنَ[25]
اور ہم یہ مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں مگر ان کو علم رکھنے والے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔
1۔ ألعلم يدلّ على العقل فمن علم عقل[26]

امام علیؑ : علم عقل پر دلالت کرتا ہے لہذا جس نے علم حاصل کیا وہ عاقل ہوگیا۔

2۔ اَلْعِلْمُ مِصْبَاحُ اَلْعَقْلِ وَ يَنْبُوعُ اَلْفَضْلِ[27]

امام علیؑ : علم عقل کی چراغ اور فضل کا سر چشمہ ہے۔

3۔ كَثرَةُ النَّظَرِ في العِلمِ يَفتَحُ العَقلَ[28]

امام صادقؑ : علم کی موشگافیاں کرنے سے عقل کے دریچے کھلتے ہیں۔

4۔ خَلَقَ اللهُ تَعالى العَقلَ مِن أربعةِ أشياءٍ : مِنَ العِلمِ ، والقُدرَةِ ، والنّورِ ، والمَشيئَةِ بِالأمرِ ، فجَعَلَهُ قائما بِالعِلمِ، دائما في المَلَكوتِ[29]

امام صادق ؑ :  اللہ تعالیٰ نے عقل کو چار چیزوں سے خلق فرمایاہے :  1۔علم  2۔قدرت  3۔ نور  4۔مشیتِ امر۔ پھر اُسے علم کے ساتھ قائم کیا جو اس ملکوت میں قائم و دائم ہے۔

  • چیزوں کی حقیقت کو سمجھنے کیلئے انسان کا عالم ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ عالم ہی عقل کا استعمال کرتے ہیں جیسا کہ آیت میں فرمایا : چیزوں کی حقیقت کو علم والے ہی سمجھ سکتے ہیں اسی طرح احادیث میں مختلف تعبیرات استعمال ہوئی کہ عقل ایسی فطرت  ہے جو علم سے بڑھتی ہےاسی طرح علم عقل کیلئے چراغ ہے  لہذا انسان کو چاہئے کہ وہ علم و حکمت میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کریں تاکہ اس کی عقل مزید پختہ ہوجائے ۔

۶۔ ادب

1۔وَ حُسْنُ الأدَبِ زينَةُالْعَقْلِ[30]

امام علیؑ :  حسن ادب عقل کی زینت ہے ۔
2۔كُلُّ شَىْ ءٍ يَحتاجُ اِلَى الْعَقْلِ وَالْعَقْلُ يَحْتاجُ اِلَى الاَدَبِ[31]

 امام علی ؑ : ہر چیز عقل کی محتاج ہے لیکن عقل ادب کی محتاج ہے۔
3۔ لاَ عَقْلَ لِمَنْ لاَ أَدَبَ لَهُ[32]

امام علیؑ :جس کے پاس ادب نہیں اس کے پاس عقل نہیں ۔

4۔اَلْأَدَبُ صُورَةُ اَلْعَقْلِ فَحَسِّنْ عَقْلَكَ كَيْفَ شِئْتَ[33]

امام علیؑ : ادب عقل کی صورت ہے لہذا جس طرح چاہیے ادب سے اپنی عقل کو خوبصورت بنائیں۔

  • جس طرح کائنات میں موجود ہر چیز دوسری چیز کی طرف محتاج ہے اسی طرح ہر چیز کی ایک صورت اور ایک زینت ہوا کرتی ہے اور حدیث کی رو سے عقل کی ضرورت،صورت اور زینت ادب ہے لہذا ادب سے عقل کی  ضرورت  کو پورا کرنے کے ساتھ  اس کو خوبصورت بنانے کی بھی ضرورت  ہے ۔

۸۔ تجربہ

1۔العَقلُ غَريزَةٌ تَزيدُ بِالعِلمِ والتَّجارِبِ[34]

امام علیؑ : عقل ایسی فطرت ہے جو علم اور تجربات سے بڑھتی ہے ۔

2۔ أَرْبَعَةٌ تَحْتَاجُ إِلَى أَرْبَعَةٍ: اَلْعِلْمُ إِلَى اَلْعَمَلِ، وَ اَلْحَسَبُ إِلَى اَلْأَدَبِ، وَ اَلْقَرَابَةُ إِلَى اَلْمَوَدَّةِ، وَ اَلْعَقْلُ إِلَى اَلتَّجْرِبَةِ[35]

پیغمبرِ اکرمؐ:چار چیزوں کو چار چیزوں  کی ضرورت  ہےعلم کو عمل، حسب کو ادب، رشتہ داری کو محبت اور عقل کو تجربہ  کی ضرو رت ہے۔

  • تجربہ زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی سب سے زیادہ ضرورت کی چیز ہے اور عقل انسان کو ہر موڑ پر پھسلنے سے بچاتی  ہےلہذا عقل کو تجربہ کی  زیادہ ضرورت  ہوتی ہےچونکہ  انسان جتنا تجربہ کرتا جائے گا اتنا اس کی عقل بڑھتی جائے  گی۔

۹۔ زمین میں سیر

1۔ اَفَلَم یَسِیرُوا فِی الاَرضِ فَتَکُونَ لَھُم  قُلُوبٌ یَّعقِلُونَ بِھَا اَو اٰذَانٌ یَّسمَعُونَ بِھَا  فَاِنَّھَا لَا تَعمَی الاَبصَارُ وَ لٰکِن تَعمَی القُلُوبُ الَّتِی فِی الصُّدُورِ[36]
کیایہ لوگ زمین پر چلتے پھرتے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا ان کے کان سننے والے ہو جاتے؟ حقیقتاً آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں۔

2۔ قُل سِيرُوا فِى الاَرضِ فَانْظُرُوا كَيفَ بَدَاَ الخَـلقَ‌ ثُمَّ اللّٰهُ يُنشِئُ النَّشاَةَ الاٰخِرَةَ‌  اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىءٍ قَدِيرٌ‌ [37]
کہدیجئے: تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ(اللہ نے) خلقت کی ابتدا کیسے کی پھر اللہ دوسری خلقت پیدا کرے گا، یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

3۔ وَ لَقَد تَّرَکنَا مِنھَا اٰیَۃً  بَیِّنَۃً  لِّقَومٍ یَّعقِلُونَ[38]
اور بتحقیق ہم نے عقل سے کام لینے والوں کے لیے اس بستی میں ایک واضح نشانی چھوڑی ہے۔

4۔ فَالیَومَ نُنَجِّیکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُونَ لِمَن خَلفَکَ آیَۃً  وَاِنَّ کَثِیرًامِّنَ النَّاسِ عَن اٰیٰتِنَالَغٰفِلُونَ[39]
پس آج ہم تیری لاش کو بچائیں گے تاکہ تو بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کی نشانی بنے، اگرچہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں۔

  • زمین پے سیر کرنے کی جسمانی فوائد سے کہیں زیادہ روحانی فوائد ہے البتہ یہ ان لوگوں کیلئے زمین میں سیر کر کے اللہ تعالٰی کی مختلف نشانیوں  میں غور و فکر کرتے ہیں کیونکہ آیاتِ الٰہی میں غور و فکر  سے  انسان کی عقل  کے دروازے کھلنے کے ساتھ مزید پختہ ہوجاتی ہے اسی وجہ سے اللہ نے قرآنِ مجید کے مختلف مقامات پر زمین پے سیر کرنے اور آیاتِ الہی میں غور و فکر کرنے کا حکم دیا ہے۔

۱۰۔ مشورہ

1۔ وَ اَمرُھُم شُورٰی بَینَھُم [40]

اور اپنے معاملات باہمی مشاورت سے انجام دیتے ہیں۔ اجتماعی امور میں دوسروں کے تجربات اور بہت سی عقلوں سے فائدہ اٹھانے کا نام مشورہ ہے۔[41]

2۔ قَالَت یاَیُّھَا المَلَؤُا اَفتُونِی فِی اَمرِی مَا کُنتُ قَاطِعَۃً اَمرًا حَتّٰی تَشھَدُونِ[42]

ملکہ نے کہا: اے اہل دربار! میرے اس معاملے میں مجھے رائے دو، میں تمہاری غیر موجودگی میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کیا کرتی۔

ملکہ کی اس بات سے کہ” میں تمہاری غیر موجودگی میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیں کیا کرتی”سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی کام میں اہل لوگوں سے مشورہ لینا یہ ہر عاقل کے نزدیک بہترین کام ہے چونکہ ایک تو کام اچھا ہوتا ہے ثانیا اسے عقل بھی کام کرنے لگ جاتی ہے۔

1۔ لاَ يَسْتَغْنِي اَلْعَاقِلُ عَنِ اَلْمُشَاوَرَةِ[43]

امام علیؑ : عاقل مشورہ سے بے نیاز نہیں ہوتا۔

  • باہمی مشاورت سے انسان کی عقل کے بند دروازے کھل جاتا ہے چونکہ قرآنی آیت اور حدیث سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ ہر عاقل شخص کسی بھی کام کے کرنے سے پہلے مشورہ ضرور کرتا ہے کیونکہ جب مختلف عقول مل جاتی ہے تو اسے کام  میں نقصان کا اندیشہ کم ہونے کے ساتھ یہ کام نتیجہ خیزہوتا ہے ۔

۱۱۔ تقویٰ

1۔ اِنّ فِی اختِلَافِ الَّیلِ وَ النَّھَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ  فِی السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَومٍ یَّتَّقُونَ[44]

بے شک رات اور دن کی آمد و رفت میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو (ہلاکت سے) بچنا چاہتے ہیں۔

تقویٰ آیات الٰہی کے ادراک کا ذریعہ ہے۔[45]

  • تقوی سے انسان آیاتِ الہی کو درک کرنے کے ساتھ قربِ الہی اور عزت و تکریم حاصل کر سکتاہےلہذا زہد و تقوی سے انسان کی عقل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

۱۲۔  اتباعِ حق

1۔الإمامُ الحسينُ ع لَمّا تَذَاكَرُوا الْعَقْلَ عِنْدَ مُعَاوِیَۃ:لَايَكمُلُ العَقلُ إلاّبِاتِّباعِ الحَقِّ،فقالَ مُعاوِيَةُ : مافي صُدورِكُم إلاّ شَيءٌ واحِدٌ[46]

جب معاویہ کے سامنے عقل کا تذکرہ آیا تو امام حسینؑ نے فرمایا: عقل اتباع ِحق کے بغیر کامل نہیں ہو سکتی، معاویہ نے کہا: آپ حضرات کے سینوںمیں صرف ایک چیز ہے ۔
2۔ إِنَّ لُقْمَانَ قَالَ لاِبْنِهِ تَوَاضَعْ لِلْحَقِّ تَكُنْ أَعْقَلَ اَلنَّاسِ[47]

امام کاظم ؑ : جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: حق کے سامنے جھک جاؤ تاکہ لوگوں میں سب سے بڑے عقلمند قرار پاؤ۔

  • حق شناسی اور حق کی پیروی کرنا انسان کی عقل کو بڑھا دیتی ہے جیسا کہ امام حسینؑ نے بھی فرمایا : اتباعِ حق کے بغیرعقل کامل نہیں ہو سکتی اور حضرتِ لقمان نے بھی اپنے بیٹے کو کہا: حق کے سامنے جھک جاؤ تاکہ عقلمند قرار پاؤ ۔

۱۳۔ خواہشاتِ نفسانی کی مخالفت

اَفَرَاَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـهَه هَوَاهُ وَاَضَلَّـهُ اللّـٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰى سَمْعِه وَقَلْبِه وَجَعَلَ عَلٰى بَصَرِه غِشَاوَةً فَمَنْ يَّهْدِيْهِ مِنْ بَعْدِ اللّـٰهِ  اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [48]
مجھے بتلاؤ جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور اللہ نے (اپنے) علم کی بنیاد پر اسے گمراہ کر دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے؟ پس اللہ کے بعد اب اسے کون ہدایت دے گا؟ کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

1۔ ذَهابُ العَقلِ بَينَ الهَوى والشَّهوَةِ[49] ۔امام علی ؑ :خواہشات کے درمیان عقلیں ضائع ہوجاتی ہیں۔

2۔ العقل حسام قاطع قاتل ھواک بعقلک[50]۔ امام علیؑ: عقل (خواہشات کو)کاٹ دینے والی تیز شمشیر ہےاپنی عقل کے ذریعہ اپنی خواہشات سے جنگ کرو۔
3۔ کم من عقل اسیر تحت ھوی امیر[51] ۔امام علی ؑ : بہت سی غلام عقلین امیروں کی ہوا وہوس کے بار میں دبی ہوئی ہیں۔
4۔ العقل و الشھوۃ ضدان ومؤیدالعقل العلم ومؤیّن الشھوۃ الھوی والنفس متنازعۃ بینھمافایھما قھرکانت فی جانبہ[52]

امام علی ؑ : عقل اور شہوت ایک دوسرے کی ضد ہیں ، عقل کی حمایت کرنے والا علم ہے شہوت کو آراستہ کرنے والی ہوا و ہوس ہے نفس ان دونوں کے درمیان کشمکش کے عالم میں ہوتاہے لہذا جو بھی غالب ہو گاا سی کی طرف مائل ہو جائیگا۔

5۔ من لم یملک شھوتہ لم یملک عقلہ[53]۔ امام علیؑ : جو اپنی شہوت کامالک نہیں ہے وہ اپنی عقل کابھی مالک نہیں ہے۔

6۔ الإمامُ الكاظمُ عليه السلام : مَن سَلَّطَ ثَلاثاً عَلى‏ ثَلاثٍ فَكَأنَّما أعانَ هَواهُ عَلى‏ هَدمِ عَقلِهِ : مَن أظلَمَ نورَ فِكرِهِ بِطولِ أمَلِهِ ، ومَحا طَرائفُ حِكمَتِهِ بِفُضولِ كَلامِهِ ، وأطفَأ نورَ عِبرَتِهِ بِشَهَواتِ نَفسِهِ ، فَكَأنَّما أعانَ هَواهُ عَلى‏ هَدمِ عَقلِهِ[54]

امام موسی کاظمؑ: جس نے تین چیزوں کو تین چیزوں پر مسلط کیا تو گویا اس نے اپنی عقل کو خراب کرنے میں مدد کی،1۔ جس نے لمبی آرزو سے اپنی فکر کو تاریک کیا۔2۔جس نے فضول گفتگو سے اپنی حکمت کے نوادر کو خود سے الگ کیا۔3۔جس نے خواہشاتِ نفسانی سے عبرت کے نور کو بجھا دیا،گویا اس نے اپنی عقل کو خراب کرنے میں اپنی خواہشات کی مدد کی۔

  • خواہشاتِ نفسانی کی پیروی عقل کو برباد و کمزور کر دیتی ہے اس کی واضح دلیل ذکر کردہ آیت و احادیث ہے جن میں خواہشات کی پیروی کرنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد میں ہے لہذا جو کوئی عقل کو چھوڑ کر خواہشات کی پیروی کرئے گا تو اس کی عقل ضائع ہو جاتی ہےلہذا انسان کو چاہئے کہ جتنا ہوسکے وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی کرنے سے اجتناب کریں او ر عقل کی تیز دھار شمشیر سے خواہشات کو کاٹ کر پھینک دیں۔

۱۴۔ گناہ سے دوری

1۔ الَّذِینَ یُجَادِلُونَ فِی اٰیٰتِ اللّٰھِ بِغَیرِ سُلطٰنٍ اَتٰھُم کَبُرَ مَقتًا عِندَ اللّٰھِ وَ عِندَ الَّذِینَ اٰمَنُوا  کَذٰلِکَ یَطبَعُ اللّٰھُ عَلٰی کُلِّ قَلبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ[55]
جو اللہ کی آیات میں جھگڑا کرتے ہیں بغیر ایسی دلیل کے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہو (ان کی) یہ بات اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے، اسی طرح ہر متکبر، سرکش کے دل پر اللہ مہر لگا دیتا ہے۔

2۔ ثُمَّ بَعَثنَا مِن بَعدِہٖ رُسُلًا اِلٰی قَومِھِم فَجَآءُوھُم بِالبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوا لِیُؤمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا بِھٖ مِن قَبلُ کَذٰلِکَ نَطبَعُ عَلٰی قُلُوبِ المُعتَدِینَ[56]
پھر نوح کے بعد ہم نے بہت سے پیغمبروں کو اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجا پس وہ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ جس چیز کی پہلے تکذیب کر چکے تھے اس پر ایمان لانے والے نہ تھے، اس طرح ہم حد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

3۔ کَذٰلِکَ یَطبَعُ اللّٰھُ عَلٰی قُلُوبِ الَّذِینَ لَا یَعلَمُونَ[57]

اس طرح اللہ ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو علم نہیں رکھتے۔

4۔ اُولٰٓئِکَ الَّذِینَ طَبَعَ اللّٰھُ عَلٰی قُلُوبِھِم وَ سَمعِھِم وَ اَبصَارِھِم وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الغٰفِلُونَ [58]

یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہی لوگ غافل ہیں۔

5۔ تِلکَ القُرٰی نَقُصُّ عَلَیکَ مِن اَنبَآئِھَا  وَ لَقَد جَآءَتھُم رُسُلُھم بِالبَیِّنٰتِ  فَمَا کَانُوا لِیُؤمِنُوا بِمَا کَذَّبُوا مِن قَبلُ  کَذٰلِکَ یَطبَعُ اللّٰھُ عَلٰی قُلُوبِ الکٰفِرِینَ[59]
یہ وہ بستیاں ہیں جن کے حالات ہم آپ کو سنا رہے ہیں اور ان کے پیغمبر واضح دلائل لے کر ان کے پاس آئے لیکن جس چیز کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے وہ اس پر ایمان لانے کے لیے آمادہ نہ تھے، اللہ اس طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

6۔ رَضُوا بِاَن یَّکُونُوا مَعَ الخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰی قُلُوبِھِم فَھُم لَا یَفقَھُونَ [60]

انہوں نے گھر بیٹھنے والی عورتوں میں شامل رہنا پسند کیا اور ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی پس وہ کچھ سمجھتے ہی نہیں ۔
1۔ لما عبأ عمر بن سعد أصحابه لمحاربته (عليه السلام) وأحاطوا به من كل جانب حتى جعلوه في مثل الحلقة فخرج (عليه السلام) حتى أتى الناس فاستنصتهم فأبوا أن ينصتوا حتى قال لهمويلكم ما عليكم أن تنصتوا إلي فتسمعوا قولي، وإنما أدعوكم إلى سبيل الرشاد وكلكم عاص لامري غير مستمع قولي فقد ملئت بطونكم من الحرام وطبع على قلوبكم[61]

 امام حسین ؑ : جب عمر ابن سعد نے اپنے سپاہیوں کو امام حسین ؑ  سے جنگ کےلئے آمادہ کیا اور حضرت کو ہر جانب سے حلقہ کی صورت میں گھیر لیا!توامام حسین (ع) خیمہ سے بر آمد ہوئے اور لوگوں کے سامنے آئے، انہیں خاموش ہونے کو کہا لیکن وہ چپ نہ ہوئے تو فرمایا:وائے ہوتم پر! اگر تم خاموش ہو کر میری باتوں کو سنو تو تمہارا کیا نقصان ہے! میں تمہیں راہ ہدایت کی دعوت دیتا ہوں تم سب میری نافرمانی کر رہے ہو اور میری بات نہیں سنتے؛ یقینا تمہارے پیٹ حرام سے پر ہیں اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے ۔

  • گناہ سے دوری عقل کو بڑھا دیتی ہے کیونکہ گناہ کے مرتکب ہو نے والوں کے دلوں پر اللہ  مہر لگا دیتاہےجیسا کہ آیات سے یہ بات واضح ہے اسی طرح احادیث سے  بھی  یہ واضح ہوجاتی ہے جیسا کہ امام حسینؑ نے اشقیاء سے فرمایا: حرام سے تمہارے پیٹ پُر ہیں لہذا اللہ نے تمہارے دلوں پر مہر لگا دی ہےجب انسان کے دل پر مہر لگ جائے تو پھر اس کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے اور وہ انسان حیوانوں سے بھی گئے گزرے کام  کرنا شروع کر دیتے ہیں  اس کی واضح مثال ہمیں کربلا میں نظر آتی ہے ۔

۱۵۔ ترکِ آرزو

1۔ كَثرَةُ الأماني مِن فَسادِ العَقلِ[62]

امام علی ؑ :کثرت آرزو عقل کی خرابی کی دلیل ہے۔
2۔ أَنَّ اَلْأَمَلَ يُذْهِبُ اَلْعَقْلَ وَ يُكَذِّبُ اَلْوَعْدَ وَ يَحُثُّ عَلَى اَلْغَفْلَةِ وَ يُورِثُ اَلْحَسْرَةَ[63]

امام علیؑ : آرزو انسان کی عقل کو تباہ،وعدوں کی تکذیب،غفلت پر وادار اور پیشمانی کا سبب بنتا ہے۔

3۔ مَا عَقَلَ مَنْ طَالَ أَمَلُهُ[64]

امام علی ؑ : جس کی آرزو طولانی ہے وہ عقلمند نہیں۔

4۔ مَن سَلَّطَ ثَلاثاً عَلى‏ ثَلاثٍ فَكَأنَّما أعانَ هَواهُ عَلى‏ هَدمِ عَقلِهِ : مَن أظلَمَ نورَ فِكرِهِ بِطولِ أمَلِهِ فَكَأنَّما أعانَ هَواهُ عَلى‏ هَدمِ عَقلِهِ[65]

امام کاظمؑ : نے ہشام بن حکم  سے فرمایا: اے ہشام! جو شخص تین چیزوں کو تین چیزوں پر مسلط کریگا، گویا اس نے اپنی عقل کی پامالی میں مدد کی ہے: جس نے طولانی آرزو کے سبب اپنے چراغ فکر کو بجھا دیاتو گویا اس نے اپنی عقل کی تباہی میں اپنی ہوا و ہوس کی مدد کی۔

  • انسان ہمیشہ کمال کا خواہاں ہوتا ہے لہذا اسے چاہئے کہ صرف لمبی لمبی آرزوئیں رکھنے کے بجائے  عقل کو بروئے کار لاتے ہوئے کمال تک جانے کی کوشش کریں کیونکہ احادیث سے واضح ہوجاتی ہے کہ لمبی آرزو  انسان کی عقل کو خراب و کمزور کردیتی ہے۔

خلاصہ

اس بحث میں ذکر کردہ آیات و روایات سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عقل انسان کے اندر رکھی ہوئی ایک قوت کا  نام  ہے جس کا کام انسان کو ہمیشہ کمال کی طرف لے جانا ہے اور اس قوت کی مقویات و منقصات دونوں موجود ہیں  لہذا  انسان کو چاہئے کہ  وہ اپنی اس قوۃ باطنی  کی مقویات کی طرف   زیادہ سے زیادہ توجہ  دیں تاکہ وہ کمال تک پہنچ سکےورنہ کائنات میں چلنے پھیرنے والے حیوانات بہت ہے جن میں سے بعض کے پاس عقل ہے ہی نہیں ہے اور بعض کے پاس عقل تو ہے مگر اس سے استفادہ نہیں کرتے ہیں ۔

حوالہ جات

  1. ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب ج 11 ص 458۔ ناشر: دار صادر ۔بيروت
  2. ابن‌شعبہ، حسن بن علی، تحف العقول، ج1 ص 15۔ ناشر : جماعۃ المدرسين في الحوزة العلمیۃ بقم۔ مؤسسة النشر الإسلامي۔ محل نشر : قم – ایران۔سال نشر : 1363هـ ش
  3. رے شهري، شيخ محمدمحمدی،ميزان الحكمہ،ج 7  ص527۔ناشر دارالحدیث۔محل نشر :قم۔ تاریخ انتشار : 1391
  4. ابن‌ابی‌جمہور، محمد بن زین‌الدین، عوالي اللئالي، ج1 ص248۔ناشر : مؤسسہ سيد الشهداء ؑ ۔محل نشر : قم – ایران۔سال نشر : 1403هـ ق

شریف الرضی، محمد بن حسین،نہج البلاغہ, ج 1 ص402۔ ناشر : مؤسسۃ  دار الھجرة۔ محل نشر : قم – ایران۔ سال نشر : 1414هـ ق[5]

مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی،بحار الأنوار،ج1  ص116۔ ناشر : دار إحياء التراث العربي۔ محل نشر : بیروت – لبنان۔ سال نشر : 1368هـ ش[6]

ميزان الحكمہ ،ج7 ص510 [7]

  1. کلینی، محمد بن یعقوب، الکافي ، ج1 ص11 ۔ ناشر : دار الکتب الإسلامیۃ۔ محل نشر : تہران – ایران
  2. سورہ زخرف3
  3. سورہ یوسف2
  4. سورہ انبیاء 10
  5. سورہ نساء 174
  6. نجفی،شیخ محسن علی،الکوثر فی تفسیر القران، ج 2 ص 453۔ناشر: بلاغ القرآن الکوثر اسلام آباد
  7. سورہ روم24
  8. شریف الرضی، محمد بن حسین،نہج البلاغہ ،ص12۔مترجم علامہ ذیشان حیدر جوادی۔ای بک کمپوزنگ : الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک
  9. شریف الرضی، محمد بن حسین،نہج البلاغہ ،ص13۔مترجم علامہ ذیشان حیدر جوادی۔ای بک کمپوزنگ : الحسنین علیھما السلام نیٹ ورک
  10. بحار الأنوار، ج1 ص131
  11. غرر الحکم،ج1ص412
  12. بحار الأنوار ،ج75ص186
  13. نہج البلاغہ ،حکمت 212 ص692
  14. الکافي ، ج1ص27
  15. ميزان الحكمہ ،ج 8 ص 446
  16. ميزان الحكمہ ،ج 8 ص 446
  17. کنز الفوائد ،  ج1،ص199
  18. سورہ عنکبوت 43
  19. تميمى آمدى، عبد الواحد بن محمد، غرر الحکم، ج1 ص92۔ناشر: دار الكتاب الإسلامي‌۔مكان چاپ: قم‌۔سال چاپ: 1410 ق‌،
  20. غرر الحکم، ج1ص85
  21. بحار الأنوار ، ج1ص159
  22. مفید، محمد بن محمد، الإختصاص ، ج1 ص244۔ ناشر : جماعۃ  المدرسين في الحوزة العلمیۃ بقم. مؤسسۃ النشر الإسلامي۔ محل نشر : قم – ایران،
  23. اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ، ج2 ص347۔ ناشر : بني هاشمي۔ محل نشر : تبریز – ایران۔ سال نشر : 1381هـ ق،
  24. غرر الحکم، ج1ص510
  25. لیثی واسطی، علی بن محمد، عیون الحکم ،ج1 ص539۔ناشر : مؤسسه علمی فرهنگی دار الحديث. سازمان چاپ و نشر۔محل نشر : قم – ایران۔سال نشر : 1376هـ
  26. کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد , ج1,  ص88۔ ناشر : دار الذخائر۔ محل نشر : قم – ایران۔سال نشر : 1410هـ ق
  27. غرر الحکم , ج1,  ص91
  28. شهید اول، محمد بن مکی، الدرة الباہرة ، ج1 ص16۔ناشر : آستانه مقدسه قم. انتشارات زائر۔محل نشر : قم – ایران۔سال نشر : 1379هـ ش،
  29. سورہ حج 46
  30. سورہ عنکبوت 20
  31. سورہ عنکبوت35
  32. سورہ یونس 92
  33. سورہ شوری 38
  34. الکوثر فی تفسیر القران، ج 8 ص 94
  35. سورہ نمل 32
  36. غرر الحکم ، ج 1 ص 778
  37. سورہ یونس 6
  38. الکوثر فی تفسیر القران ج 4 ص 16
  39. دیلمی، حسن بن محمد، اعلام الدين،ص 298 ۔ناشر : مؤسسۃ آل البیت (علیهم السلام) لإحیاء التراث۔محل نشر : قم – ایران۔سال نشر : 1408هـ ق،
  40. الکافي ، ج1ص13
  41. سورہ جاثیہ 23
  42. مستدرك الوسائل ، ج11ص211
  43. فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضة الواعظین، ج2 ص420 ۔ناشر : نشر نی۔ محل نشر : تہران – ایران۔ سال نشر : 1366هـ ش،
  44. نہج البلاغہ،حکمت 211
  45. غرر الحکم،ج1 ص119
  46. غرر الحکم،ج1 ص 653
  47. کلینی، محمد بن یعقوب، اصولِ کافی،ج1ص 17۔ناشر: دار التعارف للمطبوعات ۔بیروت 1411ق
  48. سورہ غافر 35
  49. سورہ یونس 74
  50. سورہ روم 59
  51. سورہ نحل 108
  52. سورہ اعراف 101
  53. سورہ توبہ 87
  54. بحار الأنوار، ج45 ص8
  55. عیون الحکم ، ج1ص389
  56. بحار الأنوار، ج74ص289
  57. غرر الحکم،ج1ص686
  58. اصول کافی،ج 1 ص16
Show More

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button