الکوثر فی تفسیر القرآن کی روشنی میں تخلیق کائنات سے متعلق قرآنی اور سائنسی نظریات کا تقابلی جائزہ
COMPARATIVE STUDY OF QURANIC AND SCIENTIFIC VIEWS ABOUT THE CREATION OF THE UNIVERSE IN THE LIGHT OF TAFSEER AL KAUTHAR
ماخوز از مجلہ الکوثر، اسلام آباد
Muhammad Jawad Fazili
ABSTRACT
The Holy Quran is the last Book of Allah Almighty revealed for the guidance of human beings. Different interpreters have explained the verses in different ways. The current study focused on the scientific interpretations in Al-Kauthar Fi Tafseer-il-Quran. The study is very important, as its main objective is to disclose and analyze the miracles of the Holy Quran regarding its scientific predictions explained in the Al Kauthar Fi Tafseeril Quran. In this article, the famous theories of science and the Quranic point of view regarding the creation of the Universe are discussed in the light of Al-Kauthar fi Tafseeril Quran. The study revealed that Shaikh Muhsin Ali Najafi has nicely interpreted the verses of the Holy Quran by describing modern scientific theories and discoveries to support the Quranic predictions.
Keywords: Science, Cosmology, Planets, Creation, Universe
مقدمہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید انسانوں کی ہدایت کیلئے نازل فرمایا ہے۔اس کتاب میں قیامت تک آنے والی نسلوں کےلئے رہنمائی موجود ہے۔آج کا دور سائنسی ترقی کا دور ہے۔ یورپ نے یہ باور کرانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ اسلام ایک فرسودہ دین ہے اور قرآن مجید (نعوذ باللہ ) ایک پرانی اور فرسودہ کتاب ہے(1) ایسی صورتحال کے پیشِ نظر علمائے اسلام نے دفاعِ اسلام کیلئے مختلف قسم کی حکمتِ عملی اختیار کی ہےاسی حکمتِ عملی میں سے ایک قرآنی معجزات کو اجاگر کرنا بھی ہے جس پر علمائے اسلام نے بہت محنت کی ہے۔ ہر دور میں مفسرین نے قرآن مجید کی اپنے زمانے کے لحاظ سے بشری استعداد کے مطابق تفاسیر بیان کی ہیں۔ اسلوب کے لحاظ سے تفاسیر کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے اہم ترین تفسیر بالماثور، تفسیر فقہی، تفسیر کلامی، تفسیر بالرائے اور تفسیر علمی ہیں۔تفسیر دراصل قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرنا اور ان کا مطلب (مفسر اپنے فہم کے مطابق) بیان کرنا ہے۔(2) دورِ جدید میں تفسیر قرآن کی ایک نئی روش معروف ہورہی ہے جس میں دور جدید کی دریافتوں اور ایجادات کا تقابلی جائزہ قرآن مجید فرقان حمید کی آیات سے کیا جاتا ہے جنہیں تفسیر علمی بھی کہا جاتا ہے جس کی جھلکیاں “الکوثر فی تفسیر القرآن للمحسن نجفی” میں جابجا نظر آتی ہیں۔زیر نظر مقالے میں مذکورہ تفسیر کے تخلیق کائنات سے متعلق قرآنی و سائنسی نظریات کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ یہاں سائنسی مباحث سے مراد وہ تمام مباحث ہیں جو انسان اور کائنات سے متعلق تجربات اور تحقیقات سے انسانوں نے حاصل کیے ہیں۔
موضوعِ تحقیق کا بنیادی سوال
- تخلیق کائنات سے متعلق سائنسی تحقیقات کس نہج پہ پہنچی ہوئی ہیں؟
- کیا قرآنی انکشافات جدید سائنسی انکشافات سے معارض ہیں؟
- مفسر، تخلیق کائنات سے متعلق جدید ترین سائنسی نظریات سے کس قدر آگاہ ہے اور انہیں کس نگاہ سے دیکھتا ہے؟
- سائنسی اصولوں کے بارے میں مفسر کا اصولی موقف کیا ہے؟
- سائنسی نظریات اور قرآنی نظریات میں معارضہ کی صورت میں مفسر نے کیا موقف اختیار کیا ہے؟
- سائنسی نظریات اور قرآنی نظریات کے درمیان تعارض کی صورت میں مفسر نے کون سا موقف کیوں اختیار کیا ہے؟
مقاصدِ تحقیق
1۔ شیخ محسن علی نجفی کی تفسیر ” الکوثر فی تفسیر القرآن” میں موجود سائنسی مباحث کا تنقیدی جائزہ لینا ۔
۲۔ جدید سائنسی نظریات اور قرآنی نظریات پر مفسر کی آراء کی روشنی میں تقابلی مطالعہ کرنا ۔
کائنات کی ابتداء: تخلیقِ کائنات کے حوالے سے محققین اور دانشوروں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے ایک وہ گروہ جو کہتا ہے کہ کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے جبکہ دوسرا گروہ اسے کسی خالق کا کارنامہ قرار دیتا ہے۔ پہلے گروہ کا ابتدائی نظریہ یہ تھا کہ یہ کائنات حادث نہیں بلکہ قدیم ہے یعنی یہ پہلے سے موجود تھی بعد میں وجود میں نہیں آئی لیکن بعد میں ان کے نظریات میں بتدریج تبدیلی آتی گئی اور اب وہ کائنات کے حادث ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن کسی قوی و قادر خالق کے بارے میں اب بھی تردد کا شکار ہےجبکہ دوسرا گروہ جنہیں خدا پرست کہا جاتا ہے،(3) ان کے نزدیک ایک بدیہی امر ہے جس سے انکار کسی صورت ممکن نہیں ان کے نزدیک یہ کائنات پہلے موجود نہیں تھی، بعد میں یہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آئی ہے۔
پہلے گروہ کا جو دعویٰ تھا کہ کائنات ہمیشہ سے موجود ہےاور یہ بعد میں خلق نہیں ہوئی خاص طور پر انیسیویں صدی میں ان نظریات کو قبولیت عام حاصل تھی۔ان نظریات کو تقویت دینے کے لئے ڈارونزم اور قانون بقائے کمیت مادہ (Law of Conservation of mass)جیسے مفروضات کو قانون کا درجہ دیا گیا۔(4)اس وقت مادہ پرستوں کے نظریا ت کی دو بنیادیں تھیں۔: 1۔ کائنات لامحدود وقت سے موجود ہے کیونکہ کائنات کا کوئی آغاز اور اختتام نہیں ہے۔اسے پیدا نہیں کیا گیا۔ 2۔ کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے وہ محض اتفاق ہے اور اس کی تخلیق کسی ارادی ہدف کے تحت نہیں ہوئی۔(5)
یہ نظریات دراصل قدیم یونان میں مشہور ہوئے لیکن کیتھولک چرچ اور عیسائی عقائد کے فروغ کے بعد یہ نظریات زوال کا شکار ہونے لگے۔مگرRenaissance رینیسانس(یورپ کی نشاط ثانیہ) کے بعد یہ نظریات پھر مقبول ہونے لگے۔ جرمن فلاسفر کانٹ وہ پہلا شخص تھا جس نے قدیم یونانی نظریے کا بھرپور دفاع کیا اور اسے دوبارہ یورپ میں رائج کیا۔ بیسویں صدی تک یہ نظریات ترقی پاتے گئے اور کارل مارکس جیسے (Dialectical Materialists) جدلیاتی مادہ پرست مفکرین کے ذریعے بیسیویں صدی تک ان کی رسائی ہوئی۔ بیسیویں صدی کے آغاز میں بھی جب کچھ سائنسدان مثلاًجارج پولیزر (6) ابھی تک شدو مد کے ساتھ کائنات کی سرمدیت کا دفاع کررہے تھے کہ تاریخ نے ایک اور کروٹ لی۔1922 ء میں روسی سائنسدان Alexandra Friedman نے اپنے حساب کتاب اور تجربات سے ثابت کیا کہ کائنات کی ساخت ساکن اور جامد نہیں ہے بلکہ ایک ہلکا سا دباو بھی کسی شے کو پھیلنے یا سکڑنے کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔
بیلجئیم کے سائنسدان George Lemaitre نے تجربات کے ذریعے اسے ثابت بھی کردیا کہ کائنات کا آغاز کسی حرکت یا تحریک کی وجہ سے ہوا ہے اور اس کو ثابت کرنے کے لئے تابکاری کی شرح کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس اعلان کے ساتھ ہی صدیوں سے دہریوں اور خدا پرستوں کے درمیان چھڑنے والی ایک گرماگرم بحث اپنے اختتام کو پہنچی اور خداپرستوں کے استدلال کے پہلے قضیے پر اتفاق ہوگیا کہ اس کائنات کی کوئی نہ کوئی ابتدا ضرور ہے۔(7) بعد میں کچھ سائنسدانوں نے نہ صرف کائنات کی خلقت کا اعتراف کیا بلکہ اس کے خالق کے وجود کا بھی اعتراف کیا۔
مشہور مسلم اسکالر ہارون یحییٰ کے مطابق “گلیلئو، کیپلر اور نیوٹن نے بھی یہ اعتراف کرلیا تھا کہ کائنات کی ساخت،نظام شمسی میں نظم وضبط،فزکس کے قوانین وغیرہ اللہ تعالیٰ نے خلق کئے ہیں۔”(8) مولانا وحید الدین خان کے مطابق خدا کی تلاش کا یہ سلسلہ گیلیلئو([1]) کے بعد نئے انداز میں شروع ہوا چونکہ خورد بین و دوربین کی ایجاد کے بعد اس تلاش میں مزید تیزی آرہی ہے اور حق شناس افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔(9) دیگر مذاہب آسمانی کی مانند قرآن مجید بھی کائنات کی تخلیق کے نظریے کو واضح انداز میں بیان کرتا ہے اس مطلب پر بہت سی قرآنی آیات دلالت کرتی ہیں۔ مثلاً بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ۔(10) “وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس سے کہتا ہے: ہوجا، پس وہ ہوجاتا ہے۔(11)” یہاں لفظ بدیع ، بدع سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ہے کسی سابقہ مثال اور تقلید کے بغیر کسی چیز کو ایجاد کرنے والا۔
لسان العرب میں مرقوم ہے: بَدعَ الشئی ُ: انشاہ وَبَدَءَہُ (12) یعنی کسی چیز کا نئے سرے سے یا ابتداء سے بنانا۔ ہر نئی شے جس کی مثال پہلے نہ ملتی ہو اسے بدع کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کائنات نئے سرے سے بنی ہے۔(13) کچھ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمین اور آسمانوں کو اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں خلق فرمایا ہے اور پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔اس کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اذن سے ہورہا ہے یعنی یہ کائنات وجود اور بقاء میں اللہ کی محتاج ہے۔(14)یہاں پر مفسر نے دنوں کی تعداد کے حوالے سے توقف اختیار کیا ہے اور سابقہ مفسرین نے بھی کوئی وضاحت نہیں کی فقط ان احتمالات کے، کہ شاید دن سے مراد ایسے ہی معمول کے دن ہیں یا شاید ہزار دن کے برابر دن۔(15) جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔
کائنات کی تخلیق کی کیفیت :سائنس کی دنیا میں تخلیق کائنات کی کیفیت کو بیان کرنے والا ایک مشہور نظریہ Big Bang Theory ہے۔ (17) سائنس کے مسلمہ اصولوں کے مطابق جب کوئی روشن شے مقام مشاہدہ کی طرف بڑھ رہی ہوتی ہے تو وہ Violet ہونے لگتی ہے۔ اور اسی طرح جب کوئی شے مقام مشاہدہ سے دور جانے لگے تو Red سرخ نظر آنے لگتی ہے۔ Hubble نے اپنی دوربین سے بعض ستاروں کا مسلسل مشاہدہ کیا کہ وہ Red Shift کی طرف جارہے ہیں یعنی وہ ستارے زمین سے دور جارہے ہیں کچھ ہی عرصے میں یہ بات بھی دریافت کرلی کہ نہ صرف ستارے بلکہ خود زمین بھی ستاروں سے دور جارہی ہے مسلسل مشاہدات سے Hubble اس نتیجے پر پہنچا کہ تمام ستارے اور کہکشاں وغیرہ ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں یعنی کائنات مسلسل پھیل رہی ہے جب اس بات پہ غور کیا گیا کہ کائنات کی موجودہ حالت مسلسل پھیلنے کے بعد کی ہے تو سائنسدان یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ماضی میں جب اس نے پھیلنے کی ابتداء کی تھی تو اس کی حالت کیسی ہوگی۔ لامحالہ ایک ایسے نقطے سے کائنات کا آغاز ہوا ہے جس کا حجم صفر ہو اور ایک ایسا دھماکا ہوا ہے جسے ” Big Bang” کہا جاتا ہے بعد میں تجربات سے بھی یہ بات ثابت ہوگئی ہے وہ نقطہ جس کا حجم صفر تھا وہ ” عدم” (Nothing)ہے جس سے کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔
ہارون یحییٰ کے بقول سائنسدانوں کے اندازے کے مطابق یہ دھماکہ آج سے تقریباً 17 بلین سال قبل ہوا ہے(18) اس دھماکے کے 14 سیکنڈ کے بعد ہی ہائڈروجن اور ہیلیئم وجود میں آگئے تھے۔(19) سائنسدانوں نے خلا میں پائے جانے والے ہائیڈروجن اور ہیلئیم کی مقدار سے بگ بینگ کے انعقاد پر استدلال قائم کیا ہے یعنی بگ بینگ تھیوری کے تحت جتنی ہائیڈروجن اور ہیلئیم بچنی چاہیے تھی۔ اسی کے قریب قریب مقدار میں ہی ہیلئم اور ہائیڈروجن پائی گئی ہیں۔(20)
بعض سائنسدانوں نے اس نظریے کی مخالفت بھی کی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اختلافات میں بھی دم خم نہیں رہا۔1948ء میں George Gamov نے یہ دعویٰ کیا کہ اگر Big Bang والا دھماکہ ہوا ہے تو اس کے آثار کے طور پر خلا میں مساوی طور پر پھیلے ہوئے تابکاری اثرات موجود ہونے چاہئیں۔اور یہ تابکاری شعاعیں قابل ادراک بھی ہونی چاہئیں اتفاق سے 1965 ء میں دو سائنسدانوں Arno Penzias اور Robert Wilson نے ایسے تابکاری اثرات دریافت کرلئے جو کہ کائنات میں یکساں طور پر پھیلے ہوئے ہیں جنہیں “Cosmic Background Radiation”, کا نام دیا گیا۔(21) اس بنیاد پر انہیں نوبل پرائز سے نوازا گیا۔ 1989ء میں امریکی خلائی ادارے NASA کے سائنسدان George Smoot اور اس کی ٹیم نے ایک مصنوعی سیارہ Cosmic Background Emission Explorer (COBE) کے نام سے صرف اس مقصد کے لئے بھیجا کہ آیا مبینہ تابکاری شعاعیں زمین سے باہر بھی موجود ہیں یا نہیں تو آٹھ منٹ کے اندر ہی اندر سیارے کے حساس آلات نےپیغام بھیجا کہ یہ تابکار شعاعیں وہاں بھی موجود ہیں۔(22) (23)
آسمانوں کی تخلیق سے متعلق بطلیموسی نظریہ انتہائی مضحکہ خیز تھا جس سے متاثر ہوکر بعض مفسرین نے مختلف آیات کی توجیہات کی ہیں۔ مثلاً جہاں قرآن میں سات آسمانوں کا ذکر ہے وہاں ان سے مراد سات سیارے لیے گئے ہیں حالانکہ قرآن میں کہیں پر بھی یہ اشارہ نہیں ملتا کہ سات آسمانوں سے مراد سات کُرّات ہیں۔(24) سات آسمانوں سے کیا مراد ہے اس بارے میں سائنس خاموش ہے کیونکہ سائنس کی رسائی فی الحال اسی مِلکی وے (Milky way) کہکشاں تک ہےاور اگر اس سے باہر دیکھا بھی گیا ہے تو بھی یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ جو کچھ سائنس نے دریافت کرلیا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ممکن ہے اس دریافت شدہ کائنات کے بعد اور چھ کائنات موجود ہوں جو مجموعی طور پر سات آسمان بنتے ہوں۔ کیونکہ ابھی تک کسی نے یہ دعویٰ تو نہیں کیا کہ کائنات کا کنارہ دریافت کرلیا گیا ہے۔ بلکہ ہر ایک یہی کہتا نظر آتا ہے کہ جتنا آگے دیکھیں اس سے بھی آگے کہکشائیں نظر آتی ہیں۔
شیخ محسن علی نجفی کا اصولی موقف یہ ہے کہ ان تمام سائنسی ایجادات اور دریافتوں کے باوجود اب بھی اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ یہ نظریات چاہے وہ بِگ بینگ تھیوری ہو یا کوئی اور، ان میں تبدیلی اور ترمیم کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے لیکن قرآن مجید ایک نہ تبدیل ہونے والی کتاب ہے لہٰذا قرآنی حقائق کو سائنسی تھیوریز کی کسوٹی پر پرکھنا درست روش نہیں ہے۔ فلکیات کے ابتدائی مراحل میں بھی اسی طرح کے بہت سارے مسائل دیکھنے میں آئے ہیں مثلاً بطلیموسی نظریے کے مطابق یہ زمین اس کائنات کا مرکز تھی اور سورج زمین کے گرد چکر لگاتا تھا۔بعد میں تجربات و مشاہدات سے پتہ چلا کہ زمین کے گرد سورج نہیں بلکہ سورج کے گرد زمین چکر لگاتی ہے۔اس سے ملحدین نے شور مچانا شروع کردیا کہ قرآن کا نظریہ غلط ثابت ہوگیا ہے۔(25) جیسا کہ سورہ انبیاء میں ارشاد ہے: وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ وَ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ ؕ کُلٌّ فِیۡ فَلَکٍ یَّسۡبَحُوۡنَ (26) “اور اسی نے شب و روز اور آفتاب و ماہتاب پیدا کیے، یہ سب کسی نہ کسی فلک میں تیر رہے ہیں۔” الحادی نظریہ رکھنے والوں نےاس انکشاف کو دین کے خلاف فتح قرار دیا لیکن جلد ہی یہ بات غلط ثابت ہوگئی اور آج سائنس مانتی ہے کہ سورج سمیت تمام کرات اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں (27)
اب یہاں سے اتنا اجمالی علم تو حاصل ہوگیا کہ اجرام سماوی ساکن نہیں بلکہ حرکت میں ہیں تاہم اس کی مزید تفصیلات میں تحقیقات کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔(28) یہاں ایک بات نہایت قابلِ غور ہے وہ یہ ہے کہ جب کہیں دھماکہ وغیرہ ہوجائے تو وہاں پہلے سے موجود نظم و ضبط میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ چیزیں تتر بتر ہوجاتی ہیں اور اگر ہم اتفاقا کسی دھماکے سے چیزوں کے منظم ہوکر بننے کی بات کریں تو وہ تقریباً محال ہی ہوگا۔ یہاں معاملہ اور زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہاں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ کہکشاوں کا منظم نظام اور یہ نظام شمسی ایک دھماکے کے نتیجے میں از خود بن گیا حالانکہ تمام دنیا کے عقول مل کر بھی اس سسٹم جیسا ایک چھوٹا سا سسٹم دھماکے سے تو خیر، مکمل انہماک سے کام کریں تو بھی نہیں بناسکتے۔
قرآن مجید کے مطابق اس کائنات کی تخلیق مرحلہ وار ہوئی ہے اس مطلب پر قرآن مجید کی کئی آیات دلالت کرتی ہیں اور زمین کی خلقت کی طرف کئی آیات میں اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً سورہ النازعات کی درج ذیل آیات ملاحظہ فرمائیں: وَٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ . أَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا.وَٱلۡجِبَالَ أَرۡسَىٰهَا (29) “اور اس کے بعد زمین پھیلائی۔ اس میں سےاس کا پانی اور چارہ نکا لا ۔اور پہاڑوں کو جمایا۔” ان آیات اور اس جیسی دیگر آیات سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نےپہلے زمین کو خلق فرمایا، پھر آسمانوں کا قصد کیا اور انہیں سات آسمانوں کی شکل میں مرتب کیا اس کے بعد زمین کو” دحو ” کیا۔ قدیم مفسرین مثلا حافظ ابن کثیر بھی اس موقف کی وضاحت فرماتے ہیں کہ زمین کی پیدائش پہلے ہوئی ہے اور اس کے بعد آسمان بنائے گئے ہیں تاہم زمین کی برکات آسمانوں کی تخلیق کے بعد ظاہر ہوئی ہیں۔(30)
عام طور پر دحو کا معنی” بچھانا “کے کرتے ہیں لیکن مفردات راغب میں اس کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے ازالھا عن مقرھا یعنی زمین کو اس کے ٹھکانے سے ہٹا دیا۔(31) اس آیت کی تفسیرکئی دیگر دانشوروں نے کسی اور زاویے سے بیان کی ہے مثلا ڈاکٹر فضل کریم اور ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اس آیت سے زمین کی شکل کے بیضوی ہونے کا مطلب اخذ کیا ہے(32) کیونکہ مذکورہ لغت میں ہی اس لفظ ’’ دحیٰ‘‘ کا ایک اور مطلب بیان ہوا ہے دحییُ النعام کے معنی ہیں شترمرغ کے انڈہ دینے کی جگہ۔یہ نظریہ آج کل کے جدید سائنسی مشاہدات کے عین مطابق بھی ہے۔(33)
ٍ سائنس کی تاریخ میں پہلی بار ۱۹۵۷ ء میں سر فرانسس ڈریک نے یہ ثابت کیا کہ زمین گول ہے۔ اس نے زمین کے گرد بحری سفر کیا تھا۔بعض اسکالرز کے مطابق قرآن مجید کی ایک اور آیت میں اس مطلب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: أَ لَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَ يُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ کُلٌّ يَجْرِي إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَ أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (34) “کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کیا ہے؟ سب ایک مقررہ وقت تک چل رہے ہیں اور بتحقیق اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے جب دن اور رات دھیرے دھیرے اور بتدریج ایک دوسرے میں داخل ہوں گے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب زمین گول ہو ورنہ قدیم نظریات کے مطابق اگر زمین پلیٹ کی طرح ہوتی تو زمین پر ایک دم اندھیرا ہوتا یا ایک دم روشنی ہوجاتی۔ یولِجُ کے لفظ سے تدریجا داخل ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔(35) اس کے بعد پہاڑوں کی تخلیق کے حوالے سے ارشاد ہے: أَخۡرَجَ مِنۡهَا مَآءَهَا وَمَرۡعَىٰهَا وَٱلۡجِبَالَ أَرۡسَىٰهَا(36) “اس نے زمین سے اس کا پانی اورچارہ نکالا اوراس میں پہاڑ گاڑ دئیے۔” زمین کی تخلیق کس انداز میں کی گئی۔
اس سلسلے میں سورہ رعد کی درج ذیل آیت قابل غور ہے۔ وَهُوَالَّذِي مَدَّالْأَرْضَ وَجَعَلَ فِيهَارَوَاسِيَ وَأَنْهَاراًوَمِنْ کُل ِّالثَّمَرَاتِ جَعَل َفِيهَازَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي اللَّيْل َالنَّهَارَ إِنّ َفِي ذٰلِکَ لَآ يَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَکَّرُونَ(37) “اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر طرح کے پھلوں کے دو جوڑے بنائے۔وہی رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے۔غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں۔” اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح پھیلایا ہے۔ کہ اس کی پشت پر زندگی پھل پھول سکے۔اسے نہ اس قدر سخت بنایا کہ اس پر کوئی دانہ اگنے کے قابل نہ ہو اور نہ اسے اس قدر نرم بنایا کہ دیگر بھاری اجسام اس میں دھنس جائیں اور پوری مٹی ہوا کے ساتھ اڑتی اڑتی پھرے پھر پہاڑوں کو خلق فرما کر ان کا درجہ حرارت اتنا کم کردیا کہ اس پر گرنے والا ہر قطرہ برف بن کر جم جائے۔ اس درجہ حرارت کو نہ اس قدر کم کیا کہ وہ برف پگھل ہی نہ سکے اور نہ اس قدر گرم کیا کہ وہ ساری برف ایک ساتھ پگھل کر ختم ہوجائے۔
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی ہر تخلیق میں اس قدر توازن قائم رکھا ہے کہ یہ کائنات کا نظام بہت اچھے انداز میں چل رہا ہے۔اس کے بعد زمین پر اللہ تعالیٰ نے پھل پیدا کیے اور ان کے جوڑے بنائے۔ سورہ فصلت سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی تخلیق دھوئیں سے ہوئی ہے۔ ثُمَّ اسۡتَوٰۤی اِلَی السَّمَآءِ وَ ہِیَ دُخَانٌ فَقَالَ لَہَا وَ لِلۡاَرۡضِ ائۡتِیَا طَوۡعًا اَوۡ کَرۡہًا ؕ قَالَتَاۤ اَتَیۡنَا طَآئِعِیۡنَ (38) “پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت دھواں تھا۔ پھر آسمان اور زمین سے کہا: دونوں آجاو خواہ خوشی سے یا کراہت سے، ان دونوں نےکہا: ہم بخوشی آگئے۔” مفسر موصوف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ یہ آسمان تخلیق سے پہلے دھوئیں کی حالت میں تھا پھر امر الٰہی آیا تو پھر وہ موجودہ شکل میں آگیا۔ یہاں دھوئیں سے مراد ممکن ہے وہ منتشر مادہ ہو جسے آج کل کے سائنسدان Nebula کہتے ہیں لیکن سائنسی مفروضات اور نظریات کی اتنی وقعت نہیں ہوتی کہ انہیں درست سمجھ کر استدلال کیا جاسکے۔(39) اس صورت میں زمین و آسمان کی خلقت کی ترتیبِ عمل یوں ہوگی۔
1۔ زمین کی خلقت۔ 2۔آسمانوں کی خلقت۔ 3۔ زمین کو مدار میں چھوڑنا،اسے حرکت دینا۔(40) 4۔ زمین سے چارہ نکالنا اور اس میں پہاڑ گاڑ دینا۔
بعض آیات زمین و آسمان کی تخلیق کا دورانیہ بھی بتاتی ہیں مثلاً یہ آیت ملاحظہ فرمائیں: إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ(41) “تمہارا رب یقیناً وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۔” مفسر کے مطابق اس آیت سمیت کل سات مقامات پر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمانوں کو چھ دنوں میں خلق کرنے کی تصریح کی ہے البتہ یہاں دن سے مراد ہمارے زمینی چوبیس گھنٹوں والا دن نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ تو نظام شمسی وجود میں آنے سے پہلے کی بات ہورہی ہے۔(42)
اس یوم کا تعلق تدبیری شعبے سے بھی نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق کل کائنات سے ہے۔ان ایام کا تصور کرنے کے لیے ہمیں کل کائنات کی خلقت و ارتقاء اور اس کی وسعت کو سامنے رکھنا ہوگا اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور وسعت کا سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے۔عین ممکن ہے کہ یوم سے مراد مراحل ہوں۔(43) اسی طرح درج ذیل آیت میں اہل زمین کے لیے معیشت کے انتظام کے لیے چار دن لگنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے: وَ جَعَلَ فِیۡہَا رَوَاسِیَ مِنۡ فَوۡقِہَا وَ بٰرَکَ فِیۡہَا وَ قَدَّرَ فِیۡہَاۤ اَقۡوَاتَہَا فِیۡۤ اَرۡبَعَۃِ اَیَّامٍ ؕ سَوَآءً لِّلسَّآئِلِیۡنَ(44) “اور اسی نے زمین میں اسی کے اوپر پہاڑ بنائے اور اس میں برکات رکھ دیں اور اس میں چار دنوں میں حاجت مندوں کی ضروریات کے برابر سامان خوراک مقرر کیا۔” اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہاڑوں کو تشکیل دینا، زمین کو بابرکت بنانے، اہل زمین کے لیے روزی و معیشت کا انتظام کرنے تک چار دن لگ گئے۔(45)
زمین کی خلقت کے بعد ایک اہم مسئلہ اس کے استقرار کا تھا کیونکہ زمین کے اندر موجود آتش فشاں مادے کبھی بھی پھٹ کر زمین کو لرزہ براندام کر سکتے تھے اس غرض سے پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا گیا ہے جس کا ذکر قرآن مجید کی کئی آیتوں میں آیا ہے: وَ جَعَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ رَوَاسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِہِمۡ(46) “اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنادیے تاکہ وہ لوگوں کو متزلزل نہ کرے۔” زمین چونکہ مختلف تہوں پر مشتمل ہے اور ان تہوں کو مربوط رکھنے کے لیے پہاڑوں کو میخوں کی طرح ان میں گاڑ دیا گیا ہے ورنہ ممکن تھا کہ نیچے موجود سیال مادے کی وجہ سے زمین ڈولنے لگ جاتی۔(47) اسی طرح آسمان کی خلقت کے لیے کچھ ایام اور آسمانوں کی تعداد کا تذکرہ بھی آیا ہے: فَقَضَىٰهُنَّ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ فِي يَوۡمَيۡنِ (48) “پھر انہیں دو دنوں میں سات آسمان بنادیے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس دُخان (دھواں یا گیس ) کو دو دنوں یا دو مرحلوں میں سات آسمان کی شکل دے دی۔”(49)
قرآن مجید میں اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں ہے لہٰذا اس سلسلے میں لوگ جتنی بھی باتیں کرتے ہیں وہ مفروضے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتیں پھر ان ساتوں آسمانوں کو اپنا اپنا نظام دے دیا جس طرح اس زمین پر انسان کے اوزان مختلف ہیں، کشش ثقل مختلف ہیں، آسمان دنیا پر سیاروں کی رفتار مختلف ہے اسی طرح دیگر آسمانوں پر بھی الگ الگ نظام ہیں پھر اس نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے آراستہ کیا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جتنے ستارے اور سیارے ہم اس دنیا سے دیکھ سکتے ہیں وہ فقط آسمانِ دنیا سے تعلق رکھنے والے ستارے اور سیارے ہیں۔ باقی آسمانوں کا تو انسان کو کچھ نہیں معلوم۔(50) ایک آیت یہ بتاتی ہے کہ یہ ساتوں آسمان کس کیفیت میں خلق ہوئے ہیں: اَلَمۡ تَرَوۡا کَیۡفَ خَلَقَ اللّٰہُ سَبۡعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا(51) “کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے سات آسمانوں کو یکے بعد دیگرے کس طرح خلق کیا۔” اس آیت کے معنی دو طرح کے ہوسکتے ہیں کہ ان سات آسمانوں کو اللہ نے یکے بالائے دیگرے بنایا یا ان سات آسمانوں کو ایک دوسرے کے مطابق ایک جیسا بنایا چونکہ ان سب کا مادہ (دخان) ایک ہی تھا اس لیے دوسرا معنی بھی قابل قبول ہوسکتا ہے۔
بعض مصنفین نے سات آسمانوں سے مراد اس نظام شمسی میں موجود سات فضائی طبقات لیے ہیں۔ مفردات راغب میں السماء کا معنی لکھا ہے ہر شے کا بالائی حصہ۔(52) سات آسمانوں کا معاملہ قدیم زمانے سے جدید مفسرین تک سب کے درمیان ایک مشکل مسئلہ رہا ہے قدیم دانشور چونکہ یونانی علوم سے زیادہ مرعوب تھے جن کے نزدیک آسمانوں کی تعداد نو تھی پس مفسرین نے تاویلات اس طرح کرنا شروع کیں کہ قرآن کے نظریے کو یونانی نظریے کے مطابق ثابت کریں اس لیے بعض نے یہ تاویل پیش کی کہ سات آسمان کے اوپر کرسی اور پھر عرش ہے یہ کل ملا کر ۹ بنتے ہیں یہاں تک کہ حکیم بو علی سیناؒ نے اس آیت کی عجیب تاویل یونانی نظریے کے تحت کرنے کی کوشش کی۔ وَ یَحۡمِلُ عَرۡشَ رَبِّکَ فَوۡقَہُمۡ یَوۡمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ (53) “اور اس دن آٹھ فرشتے آپ کے رب کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوں گے۔” اس کی تاویل کرتے ہوئے بو علی سینا کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ فرشتے نہیں بلکہ عرش الہی کو اٹھانے والے وہ آٹھ آسمان ہیں جنہوں نے نواں آسمان یعنی عرش الہی کو اٹھا رکھا ہے۔ بیسویں صدی میں جب یونانی نظریہ غلط ثابت ہوا تو پھر تاویلیں شروع ہوگئیں اور سات آسمان سے مراد سات سیارے مراد لیے گئے۔(54)
اس سلسلے میں شیخ محسن علی نجفی صاحب اس نظریے کو قبول نہیں کرتے۔ اسی طرح جنہوں نے سماء سے مراد فضا لی ہے، شیخ صاحب ان نظریات کو بھی قبول نہیں کرتے کیونکہ فضائی طبقات کو آسمان قرار دینے سے دیگر آیات کی تفسیر سمجھ میں نہیں آتی جن میں آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کرنے کی بات کی گئی ہے(55) حالانکہ ستارے فضائی طبقات میں تو نہیں ہیں(56) ہمارے نزدیک فضا کو آسمان کہنا اتنا غلط بھی نہیں ہوگا مثلاً ہمارے کرہ فضائی کو اگر آسمانِ دنیا کہا جائے تو اس میں مذکورہ بالا آیت کی تشریح میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی جس میں آسمانِ دنیا کو ستاروں سے مزین کرنے کی بات کی گئی ہے۔
مولانا وحید الدین نے بھی تقریباََ سماء سے مراد فضا ہی لی ہے جس کے اثبات کے لیے انہوں نے کچھ آیات قرآنی کا سہارا لیا ہے جیسا کہ قرآن میں سماء کی کچھ خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ مثلاََ السماء کو قرآن مجید میں محفوظ چھت بتایا گیا ہے: وَ جَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفاً مَحْفُوظاً وَ هُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ (57) “اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا اور اس کے باوجود وہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑتے ہیں۔” یہاں پر انہوں نے السماء سے مراد بالائی فضا لی ہے جہاں اوزون کی تہہ موجود ہے یہ سورج سے آنے والی الٹرا وائیلٹ شعاعوں کو روکتی ہے اس لیے یہ زمین اور اہل زمین کے لیے چھت کا کردار ادا کرتی ہے۔(58) بہرحال یہ ہمارے مفروضے ہیں صحیح بات کا علم تو خدا کے پاس ہی ہے۔(59)
بعض آیات بتاتی ہیں کہ آسمان کی تخلیق کا مادہ اولیہ جو کہ دخان ہیں ان سے پہلے کیا چیز تھی جو دخان بن گئی اور آسمان میں مزید وسعت پیدا ہورہی ہے یعنی پھیل رہا ہے: وَ السَّمَآءَ بَنَیۡنٰہَا بِاَیۡىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوۡسِعُوۡنَ (60) “اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا اور ہم ہی وسعت دینے والے ہیں”(61) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آسمان کو اپنی أَيۡدِ یعنی طاقت (انرجی) سے خلق کرنے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: وَٱذۡكُرۡ عَبۡدَنَا دَاوُۥدَ ذَا ٱلۡأَيۡدِۖ(62) “اور ان سے ہمارے بندے داؤد کا قصہ بیان کیجیے”یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ أَيۡدِ کا مطلب طاقت، قوت اور انرجی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
زیر تبصرہ آیت جس میں اللہ تعالیٰ نے آسمان کو اپنی أَيۡدِ سےبنانے کا اشارہ دیا ہے اس کی ایک تفسیر عام مفسرین نے اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کو اپنی لامتناہی اور لا یزال طاقت سے خلق فرمایا ہے لیکن اس کی ایک منفرد تفسیر یہ بھی ہے جسے جدید مفسرین نے اختیار کیا ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو انرجی سے خلق فرمایا ہے(63) یعنی آسمان کی خلقت کا ابتدائی میٹیریل انرجی ہے، انرجی اور مادہ جو ایک دوسرے میں تبدیل ہوتے رہتے ہیں، انرجی کے سمٹنے سے مادہ وجود میں آتا ہے اور مادہ کے بکھرنے سے انرجی وجود میں آجاتی ہے۔ انرجی سے دُخان(گیس) اور دخان سے آسمان وجود میں آگئے ہیں۔ مفسر آگے فرماتے ہیں کہ اصولاً ہمیں قرآن کی تفسیر سائنسی مفروضوں کے مطابق نہیں کرنی چاہیے کیونکہ سائنسی مفروضے بدلتے رہتے ہیں اور قرآن ثابت حقائق بیان کرتا ہے۔(64) مذکورہ بالا آیت سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ کائنات مسلسل پھیلتی جارہی ہے۔
1925ء میں ایڈون ہبل (امریکن) نے تجربات سے یہ ثابت کیا تھا کہ اس کائنات میں موجود ستارے ایک دوسرے سے دور جارہے ہیں، گویا دوسرے لفظوں میں یہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔(65) بعض آیات زمین و آسمان کی خلقت کے بعد کے کچھ مراحل کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں۔(66) ان میں سے ایک آیت یہ ہے۔ اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ(67) “کیا کفار اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ یہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کردیا ہے اور تمام جاندار چیزوں کو ہم نے پانی سے بنایا ہے تو کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے؟” رَتۡقکے معنی ہیں جوڑنا اور ملانا جبکہ فَتَقۡ کے معنی ہیں الگ کرنا، جدا کرنا گویا یہاں پر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی خلقت کے ارتقائی مراحل بیان کیے ہیں۔(68) اس آیت کی مختلف تفاسیر ہوئی ہیں۔
ایک تفسیر کے مطابق آسمان اور زمین میں سے ہر ایک باہم متصل تھے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان شگاف ڈال دیا اور ہر ایک کو سات سات بنادیا۔ دوسری تفسیر کے مطابق آسمان بند تھا اور بارش برسانے سے قاصر تھا۔اسی طرح زمین بھی بند ہونے کی وجہ سے سبزہ نہیں اگا سکتی تھی پھر جب اللہ تعالیٰ نے ان میں شگاف ڈال دیا تو آسمان بارش برسانے کے قابل ہوا اور زمین سبزہ اگانے کے قابل ہوئی اس تفسیر کے حق میں ایک روایت بھی آئی ہے۔ تیسری تفسیر کے مطابق آسمان سے مراد اجرام سماوی ہیں۔ اس کے مطابق نظام شمسی میں موجود تمام اجرام ایک تھے پھر دھماکہ ہونے کی وجہ سے یہ سب سورج سے جدا ہوگئے اور اسی طرح زمین بھی الگ ہوگئی۔ چوتھی تفسیر یہ ہے کہ جن عناصر سے زمین و آسمان کی تخلیق ہوئی ہے ان کا مادہ اصلیہ ایک تھا جو ممکن ہے کہ ابتدا میں دُخان کی شکل میں رہا ہو اور بعد میں آسمان اور زمین میں منقسم ہوکر جدا ہوگیا ہو۔ یہ آخری نظریہ شیخ محسن علی نجفی نے اختیار کیا ہے جو آج کے جدید سائنسی نظریات سے نسبتاً زیادہ قریب ہے۔(69)
کائنات کی تخلیق کا ہدف: قرآن مجید کی کئی آیات اس مطلب کو بیان کرتی ہیں کہ یہ کائنات کسی ہدف کے تحت خلق ہوئی ہے یہ عبث اور فضول خلق نہیں ہوئی ۔ اس سلسلے میں چند آیا ت ذیل میں دی جاتی ہیں۔ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا(70) “ہمارے پروردگار! یہ سب تو نے بے حکمت نہیں بنایا ہے۔” صاحبان عقل درک کرلیتے ہیں کہ اس کائنات کی کوئی چیز خدا نے بے کار خلق نہیں فرمائی۔ اَفَحَسِبۡتُمۡ اَنَّمَا خَلَقۡنٰکُمۡ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمۡ اِلَیۡنَا لَا تُرۡجَعُوۡنَ (71) “کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تمہیں عبث خلق کیا ہے۔”اور تم ہماری طرف پلٹائے نہیں جاوگے؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ مقصد کیا ہے جس کے لئے اللہ نے اس کائنات کو خلق فرمایا ہے؟ اس کا جواب ہمیں چند دیگر آیات سے ملتا ہے۔ وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا(72) “اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں بہتر عمل کرنے والا کون ہے۔” اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ اس کائنات کی خلقت کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کون بہتر عمل کرتا ہے یعنی حسن عمل ہی اس کائنات کی خلقت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے پس حسن عمل کے لحاظ سے جو سب سے بہتر ہوگا وہی کائنات کی خلقت کا مقصد قرار پاتا ہے۔(73)
اس بات سے اس حدیث قدسی کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے جس میں اللہ تعالی رسول اکرمﷺ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے۔ لولاک لما خلقت الافلاک “اگر آپ نہ ہوتے تو میں افلاک کو خلق ہی نہ کرتا”۔ چونکہ حضور ﷺ حسنِ عمل میں تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔(74)
اب اگلا سوال یہ بنتا ہے کہ جب کائنات کی تخلیق ہوئی ہے تو اس کا بنانے والا کون ہے؟ اس سوال کے بعض سائنسدانوں نےواضح جوابات دئیے ہیں اور ایک غیرمرئی خالق کے موجود ہونے کا اعتراف کیا ہے۔(75) لیکن اب بھی بعض ماہرین اسے تسلیم کرنے سے گریزاں نظر آتے ہیں پس اس سوال کے جواب کی نوبت ابھی تک نہیں آئی کہ کیا اس کائنات کی تخلیق کا کوئی ہدف بھی ہے یا نہیں شاید اس صدی یا اگلی صدی میں جب تمام سائنسدانوں کا اس بات پر اتفاق ہوجائے کہ اس کائنات کا خالق موجود ہے تو پھر شاید اس سوال کی طرف بڑھیں گے کہ تخلیق کائنات کا مقصد کیا ہوسکتا ہے۔ جن سائنسدانوں نے اس کائنات کی تخلیق کسی خاص مقصد کے تحت ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے ان میں سے ایک نوبل انعام یافتہ جرمن سائنسدان میکس پلانک (Max Plank) ہیں جن کے مطابق کائنات میں موجود نظم و ضبط یہ بتاتا ہے کہ اسے ایک بامقصد کام کے لیے تیار کیا گیا ہے یقیناً یہ ایک عظیم اور تاریخی اعتراف ہے۔(76)
زمین پر زندگی کی ابتدا ء: دنیا میں آغاز حیات کے بارے میں سائنس کی دنیا میں ضد و نقیض باتیں پائی جاتی ہیں اگر چہ انسان کی تحقیقات اس حد تک تو پہنچ گئی ہیں کہ وہ غیر نامیاتی اشیاء (Inorganic Compounds) سے نامیاتی اشیاء (Organic Compounds) بنا سکتا ہے۔سائنس کے مطابق زمین پر زندگی کا آغاز بغیر آکسیجن کے تنفس کرنے والے سادہ خوردبینی اجسام سے ہوا۔یہ قدیم خلیہ رکھنے والے(پروکیریوٹ) جاندار تھے جنہیں جدید جماعت بندی میں عالم مونرا (کنگڈم مونرا) میں رکھا جاتا ہے جیسے بیکٹریا وغیرہ پھر ان کے اندر واضح نیوکلیس بننے لگتا ہے، اور جدید سیل رکھنے والا جاندار وجود میں آتا ہے جس کے اندر مرکزے کے گرد جھلی موجود ہوتی ہے اور اس طرح کے خلیات رکھنے والے جانداروں کو یُو کیریوٹ کہا جاتا ہے۔ ان جانداروں کو جدید جماعت بندی (کلاسیفیکیشن) کی رو سے کنگڈم پروٹسٹا میں رکھا گیا ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ باقی تین کنگڈمز (جانور، پودے اور فنجائی) اسی پروٹسٹا سے وجود میں آئے ہیں الغرض بہت سے سائنسدان زندہ اجسام کے ارتقائی وجود پر یقین رکھتے ہیں (77)
لیکن یہ بات اب بھی ایک غیر منکشف شدہ راز ہے کہ ان نامیاتی مادوں میں زندگی کون پھونکتا ہے۔ انہیں زندہ کرکے چلنے پھرنے کے لائق کون بناتا ہے۔ کم از کم مادہ اولیہ پر تو یہ سوال بجا طور پر اٹھتا ہے کہ چلو یہ مان لیا کہ مادہ اولیہ کسی صورت خلق ہوگیا اور پھر مرورِ زمانہ کے ساتھ نامیاتی مرکبات وجود میں آگئے لیکن یہ سوال تاحال ایک سربستہ راز ہے کہ اس ابتدائی مادے میں زندگی کیسے دوڑنے لگ گئی بعض لوگوں کا خیال ہے کہ چند مخلوقات دیگر کرات (سیارے وغیرہ )سے زمین پر آگئی تھیں جن سے باقی نسل پھیلی ہے(78) لیکن یہاں پر بھی یہ سوالات اٹھیں گے کہ ان سیاروں پر پیدا ہونے والی ابتدائی مخلوقات میں زندگی کی رمق کہاں سے آئی ہوگی۔ یہاں آکر سائنس ورطہ حیرت میں مبتلا ہوجاتی ہے اور سوائے اس اعتراف کے کوئی چارہ کار نہیں رہتا کہ اس کائنات کو اور اس زمین پر زندہ اجسام کو اللہ تعالیٰ نے خلق فرمایا ہے اور اس تخلیق کے پیچھے باشعور ارادہ کارفرما ہے۔ مادہ اولیہ کی بحث کو نظر انداز کرتے ہوئے انسانوں اور دیگر پیچیدہ جانداروں کی تخلیق کے لیے سائنس میں جو مشہور نظریہ بیان کیا جاتا ہے اور اس کے حق میں ہمارے ملکی نصاب میں بھی بہت شدو مد کے ساتھ دلائل دئیے گئے ہیں وہ ڈارون ([2])کا نظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) ہے۔ البتہ ڈارون سے پہلے بھی مختلف نظریات لوگوں میں رائج تھے مثلا یونانی فلاسفر ہیراکلیٹس (Heraclitus) کے مطابق ہر جانور یا مخلوق ہمیشہ نئی شکل اختیار کرنے کے مراحل میں رہتی ہے۔مشہور فلسفی ارسطو کے مطابق پودوں سے جانوروں تک مسلسل ایک قدرتی یا طبیعی تبدیلی کا عمل جاری رہتا ہے اور انسان اس نشوونما کے خط کی چوٹی پر ہے۔
ڈارون سے قبل اس دور کے تمام نظریات میں سے مشہور ترین نظریہ لیمارک کا نظریہ تھا جسے اس نے 180 ء میں پیش کیا۔ اس نظریے کی رو سے ہر جاندار اپنی نسل کو آگے بڑھاتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنی خصوصیات کو آگے بڑھاتا ہے ماحول کے ساتھ تعامل میں اس کے کردار یہاں تک کہ اس کی ساخت میں بھی کچھ مثبت یا منفی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ وہ تبدیلیاں وہ اپنی اگلی نسل کو منتقل کرتا رہتا ہے اس طرح ایک ایسی نوع وجود میں آتی ہے جو ان اکتساب کردہ خصوصیات کی مالک ہوتی ہے شواہد کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہ نظریہ دم توڑتا گیاکہ آج شاید اس نظریے کا حامی کوئی نہیں مل پائے۔(79) مختلف نظریات پیش کرنے کے بعد اب انسانی تحقیق اس نظریے پہ آکے رکی ہے کہ زندگی کا آغاز پانی اور مٹی کے ملاپ سے ہوا۔ میڈیکل سائنس بھی اس کی تصدیق کرتی ہے۔(80) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بارہا یہ یاددہانی کرائی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات بشمول تمام جانداروں کو عدم سے وجود میں لایا۔ اس سلسلے میں چند آیات کا ہم ذیل میں تذکرہ کریں گے۔بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ(81) “وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور وہ جب کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تواس سےکہتا ہے۔ہوجا۔ پس وہ ہوجاتا ہے۔” عربی میں بَدِيعُ دراصل کسی سابقہ مثال اور تقلید کے بغیر کسی چیز کے ایجاد کرنے والے کو کہا جاتا ہے۔ کائنات کو اللہ تعالیٰ عدم سے وجود میں لایا ہے اسے کسی اور مثال کو دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اس کا ارادہ ہی ان چیزوں کو وجود میں لے آتا ہے۔
فاضل مفسر کے نزدیک لفظ کُن بھی سمجھانے کے لیے ہے ورنہ خلق کرنے کے لیے خدا کو اس لفظ کے بھی کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔(82)قرآن مجید میں اگرچہ انسان سے پہلے زمین پر زندگی کی موجودگی کے بارے میں صراحتاً کوئی تذکرہ نہیں ملتا تاہم انسان سے پہلے جنات اور دیگر مخلوقات کی موجودگی کے بارے میں اشارہ ملتا ہے۔ مثلاً سورہ البقرہ کی آیت 30 کی تفسیر میں اس کا ذکر کیا گیا ہے اور انسان کی تخلیق کا ارادہ،فرشتوں سے مکالمہ،تخلیق آدم اور ابلیس کی مخالفت پر قرآن مجید میں تفصیلاً گفتگو کی گئی ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسر قرآن شیخ محسن علی نجفی نےفرشتوں کے علم کے بارے میں گفتگو کی ہے کہ ان کو کیسے پتہ چلا کہ انسان زمین پر جاکر فساد پھیلائے گا،اس کے چند جوابات دیے ہیں جن میں سے پہلا جواب یہ دیا گیا ہے کہ فرشتے زمین پر چلنےپھرنے والی سابقہ مخلوقات میں یہ بات دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے اس قول کی بعد میں تردید بھی نہیں کی۔(83)
قرآن نے آغاز حیاتِ انسانی کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر آنے والے سب سے پہلے انسان حضرت آدم ؑ اور حضرت حوا ؑ ہیں جبکہ ان کی اولاد سے باقی دنیا کی آبادی پھیلتی چلی گئی ہے جب کہ انسان اور دیگر جانداروں کی خلقت کے ساتھ ہی روح کی خلقت بھی ہوگئی تھی اور یہ تو ظاہر ہے کہ روح کے وجود سے ہی زندگی کا وجود ہے۔
خلاصہ
تخلیق کائنات سے متعلق سائنسی مفروضات اور نظریات کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا کہ سائنس کے مفروضات وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتےہیں لیکن قرآنی نظریات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سائنس کے نظریات قرآنی نظریات کے روز بروز قریب آتے جارہے ہیں اور قرآن کے برخلاف نظریات میں خود جدید سائنسدان ترمیم کرتے جارہے ہیں۔الکوثر فی تفسیر القرآن میں فاضل مفسر نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا ہے اور اس مظہر کو قرآنی معجزات سے تعبیر کیا ہے البتہ ڈارونزم کے بارے میں مذکورہ تفسیر میں تفصیلی بحث نہیں ملتی تاہم فاضل مفسر نے قطعیت کے ساتھ اس نظریے کے انسانی تخلیق کے حوالے سے درست ہونے پر اعتراض کیا ہے اور اسے غلط نظریہ قرار دیا ہے چنانچہ ان کے الفاظ کچھ یوں ہیں۔ “انسان کو ابتداء ہی سے اللہ تعالیٰ نے خلق کیا ہے وہ ارتقائے انواع کے تسلسل کی کڑی نہیں ہے جیسا کہ ڈارون کا نظریہ ہے۔ البتہ قرآن نے انسان کے ذہنی ارتقاء، تمدنی ارتقاء اور اس جیسے دیگر سلسلہ ہائے ارتقاء کی تائید کی ہے۔اس کی واضح مثال کوے اور انسان کا تقابلی جائزہ ہے۔ ابتدائی انسان نے مردے کو دفن کرنا بھی ایک کوے سے سیکھا۔اس وقت کا کوا کم و بیش ویسی ہی خصوصیات کا حامل تھا جتنی خصوصیات کا حامل آج کا کوا ہے لیکن انسان آج مریخ اور دیگر سیاروں پرکمندیں ڈال رہا ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انسان کو ارتقاء کے لیے اور ترقی کے لیے خلق کیا گیا ہے جبکہ کوا اور دیگر جانوروں کو کسی اور کے لیے مسخر کیا گیا ہے۔ْ
حوالہ جات
(1) عبدالرحمان، صباح الدین،اسلام اور مستشرقین،دارلمصنفین، یوپی (انڈیا)،۲۰۰۷، ج ۱، ص ۱۱۴
(2) الازھری، عبد الصمد صار، تاریخ التفسیر،ادارہ علمیہ، لاہور، ۱۹۶۶، ص۱۶
(3) Yahya, Haroon, The creation of Universe, n.d, Page: 13
(4) Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d, Page: 18
(5)نجفی، محسن علی، انسان اور کائنات میں اللہ کی تجلی، ص 55
(6) George Politzer, PrincipesFondamentauxdePhilosophie, Editions Sociales, Paris1954,p. 84(original source: Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d)
(7) Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d, Page: 20
(8) Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d, Page: 13
(9) خان، وحید الدین، خدا کی دریافت، لنک شاپ، لاہور، ص ۱
(10)سورۃ البقرۃ،2: 117
(11)نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن ، ج1، ص 382
(12)ابن منظور، لسان العرب، مکتبۃ النور،ج 3، ص 230،تحت مادہ “ب د ع”
(13)نجفی، الکوثر فی تفسیر القرآن ، ج1، ص 381
(14)ایضاً، ج، ص 13
(15)ابن کثیر،حافظ عماد الدین، تفسیر ابن کثیر ج ۱۱، ص ۵۴۰
(16)سورۃ الحج ۲۲: ۴۷
(17) نجفی، الکوثر فی تفسیر القرآن ، ج4، ص 103
(18) مولانا وحید الدین خان کے مطابق 13.8 بلین سال قبل خلا میں سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ پھر اس میں دھماکہ ہوا اور یہ کائنات بنی۔( خدا کی دریافت، ص 27)
(19)Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d, Page: 21,50
(20) خان، وحید الدین، خدا کی دریافت، ص 24
(21) چوہدری، طارق اقبال، سائنس قرآن کے حضور میں، باب 1، ص 2
(22)Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d, Page: 23
(23) خان، وحید الدین،خدا کی دریافت، ص 27
(24) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، جلد 1 ، ص 261-262
(25) جوہری، الشیخ طنطاوی، الجواہر فی تفسیر القرآن، مطبعہ مصطفی السبالی، قاہرہ،۱۳۴۸ھ، ج ۱۶، ص ۱۹۳
(26)سورۃ الانبیاء 21: 33
(27) نائیک، ڈاکٹر ذاکر، قرآن اور سائنسی دریافتیں، ص ۲۳
(28) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 4، ص 104
(29) سورۃ النازعات79: 30-32
(30) ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر،ج ۳۰، ص ۶۷۸
(31) اصفہانی، راغب، مفردات القرآن، (ترجمہ: محمد عبدہ فیروزپوری)، تحت مادہ (د ح و)، اسلامی اکادمی، لاہور، ج ۱، ص ۳۵۸
(32) فضل کریم، ڈاکٹر، قرآن اور جدید سائنس، فیروز سنز ،لاہور، ۱۹۹۹، ص151
(33) نفس مرجع
(34) سورۃ لقمان 31: 29
(35) نائیک، ڈاکٹر ذاکر، قرآن اور سائنسی دریافتیں (انٹرنیٹ)، ص ۱۸
(36) سورۃ النازعات79: 31-32
(37) سورۃ الرعد 13 : 3
(38) سورۃ فصلت 41: 11
(39) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 8، ص 16
(40) ایضاً ، ج1، ص 261
(41) سورۃ الاعراف 7 : 54
(42) فضل کریم، ڈاکٹر، قرآن اور جدید سائنس، فیروز سنز، لاہور، ۱۹۹۹ء، ص۹۸
(43) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن ، جلد سوم، ص 228
(44) سورۃ فصلت 41: 10
(45) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 8، ص14
(46) سورۃ الانبیاء 21: 31
(47) سورۃ فصلت 41: 12
(48) نجفی،محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 5، ص 240
(49) فضل کریم، ڈاکٹر،قرآن اور جدید سائنس، فیروز سنز، لاہور، ۱۹۹۹ء، ص ۹۷
(50) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 8، ص 17
(51) سورۃ نوح 71: 15
(52) اصفہانی، راغب، مفردات القرآن، ج ۱، ص 528
(53) سورۃ الحاقۃ 69: ۱۷
(54) قادری، مولانا اسیدا الحق، قرآن کریم کی سائنسی تفسیر، تاج الفحول اکیڈمی، بدایوں، ۲۰۰۸، ص ۵۲
(55) سورۃ الملک 67: 5
(56) نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 9،ص 326
(57) سورۃ الانبیاء 21: 32
(58) خان، وحید الدین، خدا کی دریافت، لنک شاپ ، لاہور، 2021ء، ص 26
(59) فضل کریم، ڈاکٹر، قرآن اور جدید سائنس، فیروز سنز لاہور، ۱۹۹۹، ص ۹۱
(60) سورۃ الذاریات 51: 47
(61) حامد، عبدالتواب،قرآن کریم کا سائنسی اعجاز (مترجم: رضی الاسلام ندوی)، اسلامک بک فاونڈیشن، نیو دہلی،ص 26
(62) سورۃ ص 38: 17
(63) فضل کریم، ڈاکٹر، قرآن اور جدید سائنس، فیروز سنز، لاہور،۱۹۹۹، ص ۴۴
(64)نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 8، ص 392
(65)ذاکر نائیک، ڈاکٹر، قرآن اور سائنسی دریافتیں، ص 25
(66)خان، وحید الدین، خدا کی دریافت، لنک شاپ، لاہور، 2021ء، ص 26
(67)سورۃ الانبیاء 21: 30
(68)فضل کریم، ڈاکٹر،قرآن اور جدید سائنس، ص 158
(69)نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 5، ص 239
(70)سورۃ آل عمران3: 191
(71)سورۃ المومنون23: 115
(72)سورۃ ھود11: 7
(73)نجفی،محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن ، ج4، ص 104
(74)کاشانی، فیض، کتاب الوافی،مکتبۃ امیر المومنین، اصفہان،س۔ن، ج 2، ص 72
(75)Roger Penrose, The Emperor’s NewMind, 1989; Michael Denton, Nature’sDestiny, The New York: The Free Press,1998, p. 9(Original source: The Creation of Universe)
(76)Yahya, Haroon, The Creation of Universe, n.d, Page:75
(77)George, Dr. William, Biology fro Grade 9, Lahore : Punjab Textbook Board, 2018, Page 37
(78)نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج 1 ، ص 256
(79)کریم، ڈاکٹر فضل، قرآن اور جدید سائنس، لاہور: فیروز سنز لمیٹڈ، 1999، ص: 106
(80)فضل کریم، ڈاکٹر، قرآن اور جدید سائنس، ص 67)
(81)سورۃ البقرۃ 2: 117
(82)نجفی، محسن علی، الکوثر فی تفسیر القرآن، ج۱، ص 382
(83)ایضاً ، ج1، ص 265
[1] گیلیلئیو، اٹلی سے تعلق رکھنے والا سائنسدان تھا جس نے دوربین ایجاد کی، اسے ماڈرن سائنس کا موجد کہا جاتا ہے۔ اس نے استنباطی طریقے سے قابل مشاہدہ اشیاء کے ذریعے ناقابل مشاہدہ اشیاء تک پہنچنے کا طریقہ متعارف کیا۔ ( دحید الدین خان، ص ۱۵)
[2] ڈارون 1809 میں پیدا ہوا۔ ڈاکٹری کی تعلیم سیکھنے کے لیے اسے نااہل قرار دے کر کالج سے نکالا گیا اور پادری بنانے کے لیے کیمرج کے کرائسٹ کالج میں بھیج دیا گیا۔ جہاں اسے کچھ دوست ملے جن کی وساطت سے اسے سائنس سے دلچسپی ہوئی۔1831ء میں اسے ماہر حیوانیات کی حیثیت سے بحری سفر پر ہیگل نامی جہاز کے ذریعے بھیج دیا گیا۔ اس دوران اس نے جنوبی امریکہ اور مغربی بحرالکاہل کے کئی جزائر کا دورہ کیا۔ وہاں سے اس نے زندہ اور مردہ جانداروں کا مطالعہ شروع کیا۔ اس سفر کے بعد اس نے اپنا نظریہ قدرتی چناو (Natural Selection) پیش کیا۔ جس کے مطابق وہی انواع زندہ رہتی ہیں جو دوسرے انواع سے زیادہ ماحول سے مطابقت رکھتے ہوں۔ اس نظریے کو انہوں نے اپنی کتاب (On the Origin of Species by Means of Natural Selection the preservation of favored races in the struggle for life , Published in 1859 ) میں شائع کی۔ (فضل کریم، ڈاکٹر، قرآن اور جدید سائنس، ص ۷۱)